جعلی وی سی نے ویمن یونیورسٹی کو ذاتی تجربہ گاہ بنالیا، 10 دن میں 6 خزانچی تبدیل

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں انتظامی عدم استحکام سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ یونیورسٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے محض 10 دن کے اندر اندر چھ خزانچیوں (Treasurers) کو تبدیل کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جبکہ اب رجسٹرار اور کنٹرولر کی تبدیلی کی تیاریوں نے بھی تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت یونیورسٹی میں رجسٹرار اور کنٹرولر کے نام نہاد سلیکشن بورڈز چل رہے ہیں، جن پر شفافیت کے حوالے سے پہلے ہی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حیران کن طور پر ان بورڈز کے لیے مختلف ڈیپارٹمنٹس سے 15 سے 20 خواتین اساتذہ کو بلا کر مبینہ طور پر ذاتی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ایڈمن افیسر محمد شفیق کے قریبی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ان اساتذہ سے یہ جملے تک کہے کہ خدا کے لیے میرا ساتھ دو، میں اس وقت بالکل اکیلی ہوں، میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ یہ صورتحال ایک تعلیمی ادارے میں اداروں کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہوئی طاقت کی عکاس قرار دی جا رہی ہے، جہاں میرٹ اور قانون ثانوی حیثیت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا شوکاز نوٹس بھی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے مبینہ طور پر کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس شوکاز نوٹس میں عارضی وائس چانسلر کو ایمرجنسی پاورز کے استعمال سے باز رہنے اور سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل یا دیگر قانونی فورمز کی میٹنگز نہ بلانے کی واضح ہدایات دی گئی تھیں۔ تاہم، یونیورسٹی کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ ان ہدایات کو سنجیدہ نہیں لے رہیں بلکہ وہ قریبی حلقوں میں یہ کہتے ہوئے بھی سنی گئیں کہ اس طرح کے لیٹر تو آتے رہتے ہیں۔ ایک اور موقع پر مبینہ طور پر شوکاز نوٹس کو “جعلی لیٹر” قرار دے کر مسترد کیا گیا، جو کہ نہ صرف سرکاری اتھارٹی کی توہین کے مترادف ہے بلکہ اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال بھی سمجھی جا رہی ہے۔ تعلیمی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک عارضی وائس چانسلر اس طرح کھلے عام حکومتی ہدایات کو نظرانداز کرے تو یہ عمل پورے یونیورسٹی سسٹم کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خواتین یونیورسٹی ملتان ذاتی مفادات کی تجربہ گاہ بن چکی ہے؟ کیا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اپنی اتھارٹی منوانے میں ناکام ہو چکا ہے؟ اور کیا اس تمام صورتحال کا کوئی نوٹس لینے والا ہے؟ یونیورسٹی اساتذہ، ملازمین اور طالبات شدید بے چینی کا شکار ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، قبل اس کے کہ ادارہ مکمل طور پر انتظامی افراتفری کی نذر ہو جائے۔ یاد رہے کہ عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی اصل تاریخ پیدائش کے مطابق یہ 2 سال پہلے ریٹائر ہو چکی ہیں۔ مگر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سوئے ہوئے افسران کی بدولت تاحال بھی غیر قانونی طور پر عارضی وائس چانسلر کے عہدے پر غیر قانونی قابض ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں