شجاع آباد کا واحد سپورٹس کمپلیکس کمرشل مفادات کی نذر، نوجوان سراپا احتجاج

شجاع آباد (نمائندہ قوم ) چچا کی حکومت میں شجاع آباد کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے سٹیڈیم کا افتتاح ہوا اور اس میں کھیلوں کا آغاز کیا گیا جبکہ محض 25 سال بعد بھتیجی کے دور حکومت اسی سٹیڈیم کے ملبے کی کمرشل پلازے کی تعمیر کے لیے نیلامی کا آغاز ہو گیا۔ یہ شہر کا واحد اسپورٹس کمپلیکس ہے جو کمرشل مفادات کی نذر کیا جا رہا ہے، 1999 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے افتتاح کردہ منصوبے کی مسماری و نیلامی کا ٹینڈر جاری کر دیا گیا، نوجوان سراپا احتجاج۔تفصیل کے مطابق شجاع آباد میں صوبائی حکومت پنجاب کی جانب سے نوجوانوں کے لیے قائم کیے گئے واحد سپورٹس کمپلیکس کو ختم کر کے اس کی جگہ کمرشل موبائل پلازہ بنانے کا فیصلہ سامنے کرکے اس پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے سپورٹس کمپلیکس کی عمارت کے ملبہ کی نیلامی کا باقاعدہ ٹینڈر بھی جاری کر دیا ہے اور ساتھ ساتھ دکانوں کی نیلامی بھی 8 جنوری کو کی جارہی ہے، اس اقدام نے نہ صرف شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ نوجوان، اسپورٹس حلقے اور باشعور شہری سراپا احتجاج ہیں۔ مذکورہ سپورٹس کمپلیکس سنہ 1999 میں صوبائی حکومت پنجاب نے خصوصی گرانٹ سے تعمیر کروایا تھا اور اس کا افتتاح اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کیا تھا، جس کی افتتاحی تختی آج بھی عمارت پر نصب ہے۔ یہ کمپلیکس شجاع آباد اور گردونواح کی دس لاکھ سے زائد آبادی کے لیے کھیلوں کی واحد منظم سہولت تھا، جہاں نوجوان صحت مند سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے بعد میونسپل کمیٹی شجاع آباد نے اس کے ایک حصے کو نادرا دفتر کے لیے کرایہ پر دے دیا، تاہم مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث نادرا کے زیرِ استعمال حصے کی عمارت کا کچھ حصہ خستہ حال ہو گیا، جس کے بعد نادرا نے وہ دفتر خالی کر دیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نادرا کے انخلا کے بعد کھیلوں کی سرگرمیاں بحال کرنے کے بجائے میونسپل کمیٹی اور تحصیل کونسل نے اسی سپورٹس کمپلیکس کی زمین پر اپنے دفاتر قائم کر لیے، جس کے نتیجے میں کھیلوں کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ شہری حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کہیں عمارت کو دانستہ طور پر “خطرناک” قرار دے کر اسے مسمار کرنے کی راہ تو ہموار نہیں کی جا رہی، تاکہ اس قیمتی سرکاری زمین پر قبضہ اور بعد ازاں کمرشل استعمال کو قانونی شکل دی جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت دیکھ بھال کی جاتی تو عمارت کو نقصان نہ پہنچتا اور نہ ہی نوجوانوں کو ان کے واحد سپورٹس مرکز سے محروم ہونا پڑتا۔قانونی ماہرین کے مطابق کسی صوبائی حکومت کے قائم کردہ عوامی منصوبے کو ختم کرنا، مسمار کرنا یا اس کا استعمال تبدیل کرنا مقامی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں، جب تک اس حوالے سے صوبائی کابینہ کی منظوری باقاعدہ نوٹیفکیشن اور زمین کے استعمال میں تبدیلی کا قانونی عمل مکمل نہ کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملبہ نیلامی اور کمپلیکس کی جگہ پر دکانوں کی نیلامی کا ٹینڈر جاری کرنا اختیارات سے تجاوز اور سنگین قانونی خلاف ورزی کے مترادف ہے جسے عدالت میں آسانی سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں، سماجی اور اسپورٹس حلقوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپورٹس کمپلیکس کی مسماری فوری طور پر روکی جائے، ملبہ نیلامی کا ٹینڈر منسوخ کیا جائے اور اس عوامی منصوبے کو اس کے اصل مقصد یعنی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بحال کیا جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس معاملے پر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو وہ احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالت سے رجوع کرنے پر بھی مجبور ہوں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں