نشتر ٹو پروجیکٹ عدم توجہی کا شکار، سینیٹری ورکرز ہسپتال چلانے لگے

ملتان (وقائع نگار) اربوں روپے کا نشتر ہسپتال ٹو پروجیکٹ عدم توجہی کا شکار ،سینیٹری ورکرز ہسپتال چلانے پر مجبور جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے صحت کی بہتر سہولیات کا خواب دکھانے والا اربوں روپے کا میگا پروجیکٹ “نشتر ہسپتال ٹو” (ٹرشری کیئر ہسپتال نشتر ٹو) مکمل ہونے کے باوجود مکمل طور پر فعال نہ ہونے کی وجہ سے عدم توجہی کا شکار ہے۔ یہ ہسپتال، جو تقریباً 9 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر کیا گیا، 500 بیڈز کی ابتدائی مرحلے میں خدمات شروع کرنے کا وعدہ تھا، مگر اب بھی مکمل آپریشنل نہیں۔ ذرائع کے مطابق، ہسپتال کی عمارت تو کھڑی ہے، لیکن عملے کی شدید کمی اور انتظامی غفلت کی وجہ سے یہ پروجیکٹ عوام کے لیے مکمل فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہا۔افسوسناک بات یہ ہے کہ نشتر ہسپتال ٹو میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی کے باعث سینیٹری ورکرز کو ہسپتال کا بنیادی نظام چلانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ مریضوں کی دیکھ بھال، وارڈز کی صفائی اور دیگر روزمرہ امور میں سینیٹری سٹاف کو غیر معمولی ذمہ داریاں نبھانی پڑ رہی ہیں، جو ایک طبی ادارے کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ”ہسپتال میں طبی ماہرین کی بجائے صفائی کرنے والا عملہ مریضوں کے سامنے کھڑا ہے، جو نہ صرف مریضوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ صحت کے شعبے کی غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔یہ پروجیکٹ 2019 میں شروع ہوا اور 2022 تک مکمل ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر تاخیر اور بجٹ کے مسائل کی وجہ سے اب تک مکمل فعال نہیں۔ حال ہی میں حکومت نے اسے نشتر ہسپتال سے الگ کرکے خودمختار ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، مگر زمینی سطح پر صورتحال اب بھی مایوس کن ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام، جو پہلے ہی نشتر ہسپتال پر انحصار کرتے ہیں، اب اس نئے ہسپتال سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، لیکن عدم توجہی کی وجہ سے یہ خواب ادھورا رہ گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کے اس پروجیکٹ پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ صحت کے شعبے میں ایک اور ناکامی کی مثال بن جائے گا۔ حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عملے کی بھرتی، آلات کی فراہمی اور انتظامی اصلاحات کو ترجیح دی جائے تاکہ یہ ہسپتال عوام کی خدمت شروع کر سکے۔یہ صورتحال نہ صرف مالی وسائل کے ضیاع کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ صحت کے نظام میں موجود خامیوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ “اربوں روپے خرچ ہوئے، مگر فائدہ صفر۔” اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام کب اس افسوسناک صورتحال کا نوٹس لیتے ہیں۔جب اس سلسلے میں ایم ایس ڈاکٹر اظہر نقوی سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں 50 فیصد ڈاکٹر ،کنسلٹنٹ اور نرسوں کی کمی ہے ڈاکٹر اور دیگر عملے کی تعیناتی کے لیے پنجاب حکومت کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں