علمدار حسین شاہ گیلانی نے پنجاب کو ہسپتال دیئے، آج نشتر مافیا کے حوالے، بچانا ورثا کیلئے چیلنج

ملتان (میاں غفار سے) پنجاب کی تاریخ میں سابق وزیراعظم اور موجودہ چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی کے والد سید علمدار حسین شاہ گیلانی پنجاب کی تاریخ کے وہ واحد وزیر ہیں جن کے دور میں نشتر میڈیکل کالج کے علاوہ صوبے بھر میں طب کے شعبے میں شدید مالی مسائل کے شکار نوزائیدہ پاکستان کی مشکلات کے باوجود بے پناہ ترقی ہوئی اور بتایا جاتا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج اور ہسپتال کے لیے انہوں نے دن رات ایک کر دیا تھا اور وہ خود جب بھی ملتان میں ہوتے روزانہ نشتر کے تعمیراتی کام کی خود نگرانی کرتے اور کئی کئی گھنٹے خود سائیٹ پر موجود رہتے۔ سید علمدار حسین گیلانی نے اپنی وزارت صحت کے چارج کے دوران ملتان کے علاوہ میانوالی، مظفرگڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی نہ صرف منظوری صوبائی حکومت سے حاصل کی بلکہ ان کی تعمیر میں بھی اسی طرح دلچسپی لی جس طرح وہ نشتر میڈیکل کالج اور ہسپتال کی تعمیر میں لیتے رہے تھے۔ مری میں تپ دق کے علاج کے لیے سینیٹوریم کی توسیع بھی انہی کے دور میں ہوئی۔ یہ سید علمدار حسین گیلانی ہی تھے کہ جن کے دور میں بہاولپور میں ایل ایس ایم ایف میڈیکل سکول کی بنیاد رکھی گئی تاکہ دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ بطور وزیر صحت انہوں نے غریب طلبہ کو طبی وظائف دلوانے کے لیے صوبے بھر میں ایک مساوی پالیسی بنا کر مواقع فراہم کیے اور اس بات کا کریڈٹ بھی انہیں جاتا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلدیاتی الیکشن کروانے کے تمام تر انتظامات انہی کی نگرانی میں شروع ہوئے کیونکہ ان کے پاس صحت کے علاوہ بلدیات کا چارج بھی تھا۔ ملتان میں قاسم باغ کی لائبریری بھی ان کا کریڈٹ ہے اور جب انہیں تھوڑے عرصے کے لیے امپروومنٹ ٹرسٹ کا بطور وزیر ہاؤسنگ چارج ملا تو انہوں نے لاہور میں گلبرگ اور مری میں ڈویلپمنٹ کے علاوہ پنجاب کے بہت سے شہروں میں امپروومنٹ ٹرسٹ کے زیر انتظام کالونیاں ڈویلپ کرائیں جن میں سیٹلائٹ ٹاؤنز، وحدت کالونیز حتیٰ کہ ملتان کا ممتاز آباد اور گلگشت کالونی بھی انہی کے منصوبوں میں شامل تھا۔ پنجاب میں سیٹلائٹ ٹاؤنز کے نام سے اس وقت کی جدید ترین ہاؤسنگ کالونیز راولپنڈی سرگودھا گجرانوالہ سمیت کئی اضلاع میں قائم کرنے کا سہرا بھی مخدوم علمدار حسین گیلانی ہی کے سر ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مخدوم علمدار حسین گیلانی کے بیٹے اور پوتےجواس وقت اتحادی حکومت میں برسراقتدارہیں اپنے والد اور دادا کی دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھنے والی نشانی نشتر میڈیکل کالج اور ہسپتال کو نجی مافیا سے بچانے میں کامیاب رہتے ہیں یا اس پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: قومی وقار کی علامت نشتر میڈیکل کالج بیچنے کا منصوبہ، تاریخ اور قربانیاں داؤ پر

ملتان (سٹاف رپورٹر) 75 سال کی شاندار تاریخ رکھنے والا نشتر میڈیکل کالج اینڈ نشتر ہسپتال، جسے نجی شعبے کو دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، کے بارے میں روزنامہ قوم نے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کے مطابق اگر موجودہ دور میں اس طرح کا ہسپتال اور میڈیکل کالج بنایا جائے تو اس پر کم از کم 85 سے 90 ارب روپے لاگت آئے گی کیونکہ اس ہسپتال و میڈیکل کالج کی اراضی جو کہ 125 ایکڑ کے لگ بھگ ہے اور ساری کی ساری کمرشل اراضی ہے۔ ایک ذمہ دار پراپرٹی ڈیلرز کے مطابق اس وقت اس پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو 45 سے 50 ارب روپے کے قریب ہے جبکہ اگر اس طرح کی عمارت اور سٹرکچر آج کے دور میں بنایا جائے تو یہ 35 ارب روپے سے زائد میں مکمل ہو گا جبکہ مشینری اس کے علاوہ ہے اور وہ بھی اربوں روپے کی ہے۔ نشتر کے سابق طالب علموں کے مطابق دنیا کا کوئی ملک بلکہ کوئی شہر بھی ایسا نہیں جہاں اس کالج فارغ التحصیل طالب علم نہ ہوں بلکہ حیران کن طور پر بھارت میں بھی نشتر سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد برطانوی اور امریکی نیشنلٹی کی بنیاد پر کئی ڈاکٹرز ایسے بھی ہیں جو بھارت میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور وہ باقاعدگی سے امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ سے حساس نوعیت کے آپریشن کرنے کے لیے بھارت بھی جاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد اس خطے میں قائم ہونے والا یہ پہلا میڈیکل کالج ہے جسے شعبے کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ایک سینئر سرجن نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ پاکستان میں نجی شعبے میں بہت سے میڈیکل کالجز قائم ہو چکے ہیں اور وہاں سے ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل بھی کر چکے ہیں مگر ان کا مقابلہ انہی کے ہم اثر سرکاری سطح کے میڈیکل کالجوں کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبہ سے کیا جائے تو وہ تجربے اور معلومات کے لحاظ سے وہ نشتر میڈیکل کالج سمیت سرکاری شعبے کے تمام میڈیکل کالجز سے بہت پیچھے ہیں کیونکہ جس قسم کے پریکٹیکلز اور تجربات کے مختلف مراحل سے سرکاری میڈیکل کالجوں کے طلبہ اور طالبات گزرتے ہیں اور مریضوں کی بہت زیادہ تعداد کی وجہ سے جتنی جلدی وہ سیکھتے ہیں نجی شعبے کے کالجوں میں وہ سہولیات میسر ہو ہی نہیں سکتیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں