بہاولپور (کرائم سیل) غیرت کے نام پر باپ بھائیوں اور چچا کے ہاتھوں بے قصور قتل ہونے والی سلمیٰ جبیں قتل کیس میں مرکزی نامزد ملزم مقتولہ کے چچا مختیار حسین کی عبوری ضمانت میں توسیع، پولیس تفتیش پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔سوشل میڈیا پرjusticeforsalmajabeen #ٹاپ ٹرینڈ بنتا جارہا ہے جبکہ گزشتہ روز عبوری ضمانت کی پیشی سے قبل پولیس کی جانب سے مقتولہ کی 25 سال تک پرورش کرنے والی امیر مائی کو وکیل پیش نہ کرنے پر مجبور کرنے والے افسران کے خلاف بھی ڈی پی او کو کارروائی کرنی چا ہئے۔ امیر مائی کا سوموار کے روز ڈی پی او بہاولپور کی کھلی کچہری میں پیش ہونے کا فیصلہ تفصیلات کے مطابق سلمیٰ جبیں قتل کیس میں مرکزی نامزد ملزم کی ضمانت میں بار بار توسیع اور عبوری ضمانت کا خارج نہ ہونا اس امر کا واضح ثبوت بنتا جا رہا ہے کہ پولیس کی تفتیش نہ صرف کمزور ہے بلکہ اس میں ملزمان کی جانب واضح جھکاؤ بھی نظر آ رہا ہے۔ کیس کی موجودہ صورتحال نے مقتولہ کے لواحقین اور سول سوسائٹی میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر تفتیش مضبوط، غیر جانبدار اور قانون کے تقاضوں کے مطابق ہوتی تو مرکزی ملزم کو اس قدر ریلیف نہ ملتا۔ ان کا مؤقف ہے کہ تفتیشی افسران کی غفلت، کمزور شواہد کا اندراج اور حقائق کو نظرانداز کرنے کے باعث کیس مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ ملزمان کو پہنچ سکتا ہے۔سول سوسائٹی نے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بہاولپور اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بہاولپور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس اور سنگین نوعیت کے قتل کیس کی تفتیش کے لیے فوری طور پر ایک خصوصی، خودمختار اور غیر جانبدار ٹیم تشکیل دی جائے۔ ساتھ ہی محکمہ پولیس میں موجود ان تمام افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ انکوائری کی جائے جن پر جانبداری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ملزمان کی معاونت کے الزامات ہیں۔دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈی ایس پی احمد پور ایسٹ کی جانب سے مبینہ طور پر مقتولہ کی والدہ امیر مائی کو بہلا پھسلا کر پولیس کے حق میں تعاون کرنے کا بیان لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ بیان آزادانہ نہیں بلکہ دباؤ اور اثر و رسوخ کے تحت لیا گیا، جس سے تفتیش کی شفافیت مزید مشکوک ہو گئی ہے۔سول سوسائٹی نے امیر مائی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں اور تمام باشعور شہری ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ کسی بھی پولیس افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی شہری کو زبردستی، دھمکی یا دباؤ کے تحت بیان دینے پر مجبور کرے۔ اس عمل کو قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔سول سوسائٹی نے ڈی ایس پی احمد پور ایسٹ کے مبینہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افسر کے خلاف سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔آخر میں سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سلمیٰ جبیں کو انصاف دلانے کے لیے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، تاکہ نہ صرف متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے بلکہ معاشرے میں یہ واضح پیغام بھی جائے کہ طاقت، اثر و رسوخ اور جانبداری قانون سے بالاتر نہیں۔اس ہائی پروفائل کیس کے سلسلے میں جب بھی میڈیا نمائندگان نے ترجمان بہاولپور پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ کال اٹینڈ نہیں کرتے اسی طرح تفتیشی افسر ایس ایچ او سے تفصیلات پوچھنے کا کہتے ہیں اور ایس ایچ او سے رابطہ کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ میں ابھی مصروف ہوں۔
#JusticeForSalmaJabeen







