ویمن یونیورسٹی ملتان انکریمنٹس، کم نمبر، میٹرک سیکنڈ ڈویثرنر وی سی خود ’’نااہل‘‘، غصہ فیکلٹی پر

ملتان ( سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان ایک بار پھر شدید انتظامی بحران اور بدترین تنازع کی لپیٹ میں آ گئی ہے، یونیورسٹی کی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ایمرجنسی پاورز کے غیر قانونی اور بلاجواز استعمال سے تعیناتیاں، اختیارات کے غیر قانونی، غیر اخلاقی اور مبینہ انتقامی استعمال کے نہایت سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے تقریباً 80 کے قریب ملازمین کے قانونی انکریمنٹس ہائیکورٹ سے سٹے آرڈر کے باوجود اچانک اور بلا جواز کاٹ دیئے گئےجس سے ادارے میں شدید اضطراب اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ انکریمنٹس یونیورسٹی کے باقاعدہ قواعد و ضوابط اور انٹرویو پالیسی کے تحت دیے گئے تھے۔ پالیسی کے مطابق 65 سے زائد نمبرز پر 1 انکریمنٹ، 70 سے زائد نمبرز پر 2 انکریمنٹس،75 سے زائد نمبرز پر 3 انکریمنٹس جبکہ 80 سے زائد نمبرز حاصل کرنے والوں کو 4 انکریمنٹس دی گئی تھیں۔ تاہم وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ذاتی رنجش اور مبینہ احساسِ محرومی، احساس کمتری کی بنیاد پر یہ تمام انکریمنٹس منسوخ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق انکریمنٹس کی کٹوتی کے پیچھے ایک حیران کن اور چونکا دینے والی وجہ سامنے آئی ہے۔ خود وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ انٹرویو کے دوران صرف 40 سے زائد نمبر حاصل کر سکیں جس کے باعث وہ کسی بھی انکریمنٹ کی اہل نہ ٹھہر سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہی بات ان کے لیے ذہنی کوفت، حسد اور انتقامی سوچ کا باعث بنی۔ یونیورسٹی کے اندر اور باہر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے تعلیمی ریکارڈ پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ اتنی نالائق تھیں کہ میٹرک سند کے مطابق پاکستان سٹڈیز میں 75 میں سے صرف 30 نمبر، ریاضی میں 100 میں سے 48 نمبر، جنرل سائنس میں 100 میں سے 52 نمبرجبکہ سوشیالوجی (سوکس) میں 100 میں سے 51 نمبر حاصل کیے اور میٹرک کا امتحان سیکنڈ ڈویژن سے پاس کیا۔ ان دعوؤں کے بعد یونیورسٹی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ کیا ایک مبینہ طور پر کمزور تعلیمی ریکارڈ رکھنے والی شخصیت اعلیٰ تعلیمی ادارے کی قیادت کی اہل ہو سکتی ہے؟ ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق کے قریبی ذرائع کے مطابق وائس چانسلر کو یہ شدید دکھ تھا کہ ان کے ماتحت افسران اور ملازمین قابلیت، کارکردگی اور انٹرویوز میں ان سے زیادہ نمبر کیوں لے گئے۔ ذرائع کے مطابق اسی مبینہ احساسِ کمتری و محرومی کے تحت تمام ماتحت ملازمین کے انکریمنٹس کاٹنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ انکریمنٹس کی کٹوتی کے بعد یونیورسٹی ملازمین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ متاثرہ عملے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف یونیورسٹی ایکٹ، سروس رولز اور میرٹ پالیسی کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ملازمین کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ ملازمین نے الزام لگایا ہے کہ یونیورسٹی کو ذاتی انا اور ضد کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ ملازمین اور اساتذہ تنظیموں نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، گورنر/چانسلر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ہائیکورٹ سے سٹے آرڈر کے باوجود انکریمنٹس کی غیر قانونی کٹوتی کا فوری نوٹس لیا جائے، معاملے کی اعلیٰ سطح، غیر جانبدار انکوائری کرائی جائے اور ضد پر قائم عارضی و غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ، 4 دن پہلے تعینات خزانچی طاہرہ یونس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور متاثرہ ملازمین کے تمام قانونی حقوق فوری بحال کیے جائیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے اپنے کماؤ پوت ایڈمن افیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالا، سیلاب فنڈز اور کانفرنسز کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ سر پرستی سے غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز، جعلی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔ اور مبینہ طور پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی QUO WARRANTO میں کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں