لاڑکانہ : پولیس نے زندگی کی بھیک مانگنے والے شہری کو سرعام قتل کردیا

لاڑکانہ(بیورورپورٹ)سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں زندگی کی فریاد کرنے والے شہری کو پولیس اہلکار نے سرعام گولیاں مار کر ماورائے عدالت قتل کردیا۔شہری پولیس اہلکار کے سامنے ہاتھ جوڑ کر زندگی کی بھیک مانگتا رہا مگر اہلکار نے ایک نہ سنی گئی اور قریب آ کر اسے سرعام گولیاں مار دیں۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر صارفین شدید تنقید کرتے نظر آئے۔نادر بلوچ نے لکھا کہ لاڑکانہ سے سامنے آنے والے یہ مناظر کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ حیدری تھانہ کی حدود میں ‘مبینہ پولیس مقابلے’ کے دوران کیمروں کے سامنے قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ زخمی ملزم زمین پر گرا ہاتھ جوڑ کر زندگی کی بھیک مانگتا رہا، لیکن پولیس اہلکاروں نے رحم کے بجائے سر میں گولی مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ایک صارف نے سوال کیا کہ وہ شخص زندہ اور نہتا تھا اس نے ہاتھ جوڑے، پولیس اسے زندہ گرفتار کرسکتی تھی اسے کس بات کا ڈر تھا؟ صارفین نے پولیس اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملزم نہتا ہو کر سرنڈر کر چکا تھا تو اسے گرفتار کر کے اسپتال کیوں نہیں منتقل کیا گیا؟ اگر سڑکوں پر ہی فیصلے کرنے ہیں تو پھر عدالتوں کو تالے لگا دینے چاہئیں۔ صارف نے مزید کہا کہ کیا بلاول بھٹو بتائیں گے کہ ان کے صوبے میں پولیس مقابلوں کے نام پر یہ ماورائے عدالت قتل کب تک جاری رہیں گے؟تفصیلات کے مطابق شہری کا تعلق قمبر شہداد کوٹ سے تھا وہ 8 بچوں کا باپ اور پیشے کے اعتبار سے کاشت کار اور پیپلز پارٹی کا کارکن تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں