بہاولپور: ڈی پی او سمیت اہم پولیس دفاترمیں ریڈرز اور نائب ریڈرز کاراج

بہاولپور (کرائم سیل)ڈی پی او آفس، ایس پی آفس اور ضلع بہاولپور کے مختلف ایس ڈی پی او دفاتر میں سالہاسال سے تعینات ریڈرز اور نائب ریڈرز نے اپنے سیاسی اور سماجی روابط اس قدر مضبوط بنا لیے ہیں کہ ایماندار افسران بھی عوام کو انصاف اور ریلیف فراہم کرنے میں بے بس، مجبور اور لاچار دکھائی دیتے ہیں۔ ان ریڈرز، بالخصوص نائب ریڈرز نے ان اہم سیٹوں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ذرائع کے مطابق سالہا سال تک انہی سیٹوں پر براجمان رہنے والے یہ ریڈرز نائب ریڈرز اگر کبھی تبدیل بھی کیے جائیں تو محض کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں۔ چند روز کے لیے ان کے تبادلے او ایس آئی برانچ میں دکھا دیے جاتے ہیں، مگر وہ اسی دوران اپنی جڑوں اور اثر و رسوخ کے ذریعے اسی سرکل یا متعلقہ تھانوں میں پوسٹنگ حاصل کر کے انہی سیٹوں پر کام کرتے رہتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد واپس تبادلے کروا کر اپنی سیٹوں پر مسلط ہو جاتے ہیں۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ریڈرز کے آگے نہ کوئی سائل محفوظ ہے، نہ کوئی تفتیشی افسر اور نہ ہی نئے تعینات سب انسپکٹرز اور ایس ایچ اوز۔ یہ ریڈرز، خاص طور پر مبینہ طور پر ’’اچھے‘‘ اور ’’سیٹنگ والے‘‘ ریڈرز، باقاعدہ طور پر مال پانی وصول کرتے ہیں اور افسران کو یرغمال بنا کر رکھتے ہیں۔مزید انکشافات میں بتایا گیا ہے کہ بعض سرکل افسران کے ریڈرز اور نائب ریڈرز ہوٹلوں اور سراؤں سے افسران کے نام پر باقاعدہ اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور بدلے میں ان ہوٹلوں میں ہونے والے دو نمبری کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس پورے کرپٹ نیٹ ورک کو مبینہ طور پر ڈی پی او آفس کی او ایس آئی برانچ اور دیگر اہم برانچز کے بعض سربراہان کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، جو سالہا سال سے تحفے، نذرانے اور موسمی پھل وغیرہ وصول کر کے ان عناصر کو سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ آنے والے ڈی پی او بہاولپور کیا ان بااثر اور کرپٹ ریڈرز و نائب ریڈرز کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کر کے ان کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں گے، یا ماضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے یہی عناصر اسی طرح لوٹ مار کرتے رہیں گے اور پولیس نظام میں کرپشن کو مزید فروغ دیا جاتا رہے گا؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں