ملتان(تحقیقاتی رپورٹر)ملتان میں بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائم کے تناظر میں تھانہ سیتل ماڑی کی حدود میں سامنے آنے والا بغیر نمبر پلیٹ سیاہ رنگ کا ہنڈا 125 موٹر سائیکل کا معاملہ ڈی ایس پی سرکل نیو ملتان کے علم میں ہونے کے باوجود تاحال کسی باضابطہ پولیس کارروائی کا حصہ نہ بن سکا، جس سے پولیس کی کارکردگی، ٹریفک نظام اور قانونی تقاضوں پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک ذمہ دار شہری کی بروقت نشاندہی، شواہد کی فراہمی اور اعلیٰ افسران کو اطلاع کے باوجود نہ تو مقدمہ درج کیا گیا اور نہ ہی کسی تفتیشی افسر کی آن دی ریکارڈ تعیناتی سامنے آ سکی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات تقریباً 8 بجے تھانہ سیتل ماڑی کے علاقہ وہاڑی روڈ پر واقع ایک پٹرول پمپ کے اندر موجود سروس سٹیشن پر ایک سیاہ رنگ کی ہنڈا 125 موٹر سائیکل کھڑی کی گئی، جس پر آگے اور پیچھے کوئی نمبر پلیٹ نصب نہیں تھی۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل سوار نوجوان نے اسے وہاں کھڑا کیا اور بعد میں لینے کا کہہ کر روانہ ہو گیا۔ شہر میں حالیہ دنوں میں بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں کے ذریعے ہونے والی وارداتوں کے پیشِ نظر، ایک ذمہ دار شہری نے جی پی ایس کیمرے کے ذریعے تصاویر، ویڈیوز اور لوکیشن محفوظ کر کے ڈی ایس پی نیو ملتان سرکل ارشاد خان اور ایس ایچ او سیتل ماڑی راؤ علی حسن کو وٹس ایپ پر ارسال کیں۔ذرائع کے مطابق اطلاع کے باوجود پولیس پارٹی ایک گھنٹہ سے زائد تاخیر سے موقع پر پہنچی، جس دوران دو نوجوان آ کر موٹر سائیکل لے گئے۔ بعد ازاں اے ایس آئی افضل نے جب پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تو معلوم ہوا کہ موٹر سائیکل لے جانے والے افراد قریبی ایک نجی گاڑیوں کے شو روم سے منسلک ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جب اس حوالے سے مجاہد نامی ٹریفک وارڈن سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے موقف اختیار کیا کہ اس نے مذکورہ موٹر سائیکل کا چالان کیا تھا اور سرکاری تحویل میں دینے کے بجائے اپنے ایک نجی ملازم کے ذریعے سروس اسٹیشن میں کھڑا کروایا جسے بعد میں مبینہ طور پر چالان کی ادائیگی کے بعد مالک کے حوالے کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہی نجی شو روم ٹریفک وارڈن مجاہد سے منسلک بتایا جاتا ہے۔اس صورتحال نے سنگین قانونی سوالات کو جنم دیا ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکل کو سرکاری تھانے یا مجاز یارڈ منتقل کرنے کے بجائے نجی مقام پر رکھنے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی؟ موٹر سائیکل کے انجن اور چیسز نمبر کی تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ اور یہ کیسے طے کیا گیا کہ گاڑی کسی جرم یا ڈکیتی میں ملوث نہیں؟اہم بات یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں نہ کوئی ایف آئی آر، نہ روزنامچہ (DDR)، اور نہ ہی کوئی محکمانہ انکوائری آن دی ریکارڈ لائی گئی۔ پولیس ترجمان کے مطابق افضل اے ایس آئی کو معاملے کی چھان بین کا کہا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق یہ چھان بین غیر رسمی نوعیت کی ہے کیونکہ تاحال کسی تفتیشی افسر کی تحریری تعیناتی یا انکوائری نمبر جاری نہیں ہوا۔قانونی ماہرین کے مطابق موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور پنجاب موٹر وہیکلز رولز کے تحت بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکل کا استعمال قابلِ سزا جرم ہے اور ایسی گاڑی کو فوری طور پر پولیس تحویل میں لینا لازم ہوتا ہے، جبکہ پولیس رولز کے مطابق مشکوک واقعے کی صورت میں شواہد کا تحفظ اور قانونی ریکارڈ مرتب کرنا ضروری ہے۔شہری حلقوں نے سی پی او ملتان، آر پی او ملتان اور ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی کسی سینئر افسر کے ذریعے اعلیٰ سطح پر شفاف اور آن دی ریکارڈ انکوائری کروائی جائے۔ اگر یہ محض چالان کا معاملہ تھا تو اس کا مکمل سرکاری ریکارڈ سامنے لایا جائے، بصورت دیگر بغیر نمبر پلیٹ مشکوک موٹر سائیکل کے معاملے میں مبینہ غفلت یا سہولت کاری کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ پولیس نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔







