ملتان (سٹاف رپورٹر) پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی ملتان میں 200 سے زائد ایسے فرضی اشتہاری بورڈز کا انکشاف ہوا ہے جن کے عوض وصول کی جانے والی کروڑوں روپے کی رقم کسی بھی ادارہ جاتی کھاتے میں ظاہر نہیں کی جا رہی جبکہ چھوٹی چھوٹی دکانوں، نچلے درجے کے کاروباری اداروں جنرل سٹورز ،میڈیکل سٹورز و دیگر تمام تر محلے کی سطح کی دکانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن کے باہر لگے بورڈز کے ماہانہ کرائے تو لیے جا رہے ہیں مگر ان کا 30 فیصد بھی خزانے میں جمع نہیں ہو رہا۔ 2015 سے اپنے آغاز ہی سے یہ ادارہ کرپشن کا گڑھ بنا ہوا ہے اور فرضی رسیدوں پر جعلی کھاتے چلائے جا رہے ہیں۔ پی ایچ اے کے ایکٹ میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اس کے سربراہ جسے ڈائریکٹر جنرل کہا جاتا ہے، کی اسامی پر کوئی بھی ایڈیشنل چارج کا حامل آفیسر تعینات نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایک مستقل اسامی ہے مگر اس کا اضافی چارج گزشتہ سال جنوری سے کریم بخش جوتہ جو کہ ایڈیشنل کمشنر ملتان ہیں کو تفویض کیا گیا ہے۔ پی ایچ اے کے ایکٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ کسی فل ٹائم ملازم ہی کو تفویض کیا جا سکتا ہے اور اگر کسی کو قائم مقام یا عارضی انتظام کے تحت اس عہدے پر تعینات بھی کیا جائے تو اس کا زیادہ سے زیادہ عرصہ قانونی طور پر چھ ماہ کا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ڈی جی پی ایچ اے کی اسامی جون 25 کے بعد سے قواعد و ضوابط کے برعکس ہے اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران انہوں نے جو احکامات بھی جاری کیے ہیں، قانونی طور پر اگر کوئی انہیں چیلنج کرے تو غیر مؤثر ہو سکتے ہیں۔ کریم بخش جوتہ کی تعیناتی سے قبل ملتان کی سوا سو سے زائد یونین کونسلز میں سے 90 سے زائد یونین کونسلز پی ایچ اے کے پاس تھیں، بعد ازاں پی ایچ اے کو مزید یونین کونسلز بھی دے دی گئی ہیں اور ضلع کونسل کے دائرہ اختیار کو تشہیری بورڈز کے حوالے سے کم کر دیا گیا ہے۔ پی ایچ اے کا عملہ باریک واردات کچھ اس طرح سے کرتا ہے کہ سالانہ بولی کی بنیاد پر اپنے زیر انتظام یونین کونسلز میں نصب تمام تر تشہیری بورڈز کو مکمل ٹھیکے پر دینے کی بجائے 20 سے 25 فیصد بورڈز لسٹ سے علیحدہ کرکے اپنے پاس رکھ لیتا ہے جن میں سے کچھ مختلف افسران اور دیگر با رسوخ شہریوں کو دے دیئے جاتے ہیں اور باقی پی ایچ اے کے عملے میں بندر بانٹ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق اس سال بھی شہر بھر میں پی ایچ اےکی حدود میں 150 سے 200 تشہیری بورڈ ایسے ہیں جنہیں ایک سال کی نیلامی پر نہیں دیا گیا اور اس وقت تشہیری بورڈ کا ریٹ تقریبا 32 روپے فی مربع فٹ ہے اور شہر میں اکثر بورڈز سٹینڈرڈ سائز کے مطابق 60 فٹ اور 20 فٹ کے نصب کیے جاتے ہیں اس حساب سے صرف ایک بورڈ کا ماہوار کرایہ 36 سے 40 ہزار روپے بنتا ہے اور سالانہ کرایہ چار لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ کے لگ بھگ ہوتا ہے جو کسی بھی سرکاری ریکارڈ پر ظاہر نہیں کیا جاتا اور اگر ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر میں پی ایچ اے کی حدود میں واقع یونین کونسلز میں 150 کے قریب بھی ایسے فری کھاتے کے اشتہاری بورڈز ہوں تو یہ رقم چھ کروڑ روپے سالانہ سے زائد بنتی ہے جو کسی بھی ریکارڈ پر نہیں اور آج تک کسی بھی ادارے نے اس حوالے سے کوئی بھی سروے نہیں کروایا کہ ضلع ملتان میں ضلع کونسل کی حدود میں کل کتنے اشتہاری بورڈز ہیں اور پی ایچ اے کی حدود میں ان کی تعداد کتنی ہے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ اس سے قبل بھی کرپشن کے الزام میں ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ کوارڈینیشن کے طور پر طویل عرصہ تک تعینات رہنے والے حافظ اسامہ جو کہ ان دنوں معطل ہیں کو مجموعی طور پر چار مرتبہ کرپشن کے الزام میں معطل اور ایک مرتبہ سابق ڈپٹی کمشنر مدثر ریاض ملک نے نوکری سے برخاست بھی کر دیا تھا مگر وہ ہر مرتبہ بحال ہو کر دھڑلے سے نہ صرف واپس آ جاتے ہیں بلکہ انہیں مارکیٹنگ اینڈ کوارڈینیشن کا شعبہ بھی دے دیا جاتا ہے۔تاہم اس مرتبہ ان کے خلاف اینٹی کرپشن میں ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود کارروائی رکی ہوئی ہے اور اینٹی کرپشن کا ایک کاریگر اہلکار مبینہ طور پر ان کے ساتھ معاملات طے کر چکا ہے۔ ان دنوں حافظ اسامہ کی معطلی کے بعد ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ کوآرڈینیشن کی اسامی پر جلال الدین تعینات ہیں مگر سکہ تنویر حسین نامی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا اس شعبے میں چل رہا ہے جو اس مرتبہ حافظ اسامہ کے چہیتے ٹھیکے دار ضابطہ خان کی بجائے اپنے پسندیدہ ٹھیکے دار محمد اللہ اور عمران خان سمیت تین پارٹنرز کو ٹھیکہ دلوانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حافظ اسامہ بدر منیر اور پرویز نامی پی ایچ اے کے اہلکاروں پر درج ایف آئی آر پر مزید کاروائی مکمل طور پر ٹھپ ہے حالانکہ یہ انکوائری اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لودھراں کو مارک کی گئی تھی۔ ابتدائی انکوائری میں مبینہ طور پر 17 کروڑ 20 لاکھ روپے کا ہیر پھیر سامنے آ چکا ہے۔ اس کے باوجود اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان کے پاس مزید قانونی کارروائی انتہائی سست روی کا شکار ہے۔خبرکامتن من وعن ڈی جی پی ایچ اے کوموقف کیلئے بھجوایاگیاتاہم اخبارکی اشاعت تک انکی جانب سے کوئی جواب سامنےنہیں آیا۔







