ملتان( سٹاف رپورٹر) حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب کے مرکز ملتان میں سندھ ،کے پی کے، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے درجنوں اضلاع کو گزشتہ 72سال سے طبی سہولتیں فراہم کرنے والے پاکستان کے بڑے ہسپتالوں میں شامل نشتر ہسپتال کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور حیران کن طور پر انتہائی خاموش سے ملتان کےایک معروف صنعتی گروپ جس نے گزشتہ چند سالوں میں ملتان میں ٹرسٹ کے نام پر ایک انتہائی مہنگے ہسپتال کو چلانے کا تجربہ بھی حاصل کرلیا ہے کی آڈٹ ٹیمیں نشتر کے معاملات ، اخراجات ، مریضوں کی آمد، تمام تر مشینری اور جملہ سٹاف کے حوالے سے معلومات انتہائی خاموش سے مرتب کررہی ہیں۔ نشتر ہسپتال کی تعمیر کا آغاز آج سے 74 سال قبل 1950 میں ہوا تھا۔ اس وقت پنجاب کے گورنر سردار عبدالرب نشتر تھے جن کے نام پر پاکستان کے طبی شعبے میں اس وقت کے سب سے بڑے ہسپتال کی ملتان میں تعمیر کا فیصلہ ہوا تھا اور اگلے سال 1951 میں اس کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا تھا۔ ابتدا میں 1953 میں 80بستروں کے ساتھ اس نے کام شر وع کیا تھا اور نشتر میڈیکل کالج سے ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹروں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں طب کے شعبے میں اس ادارے اور ملک کا نام روشن کیا ۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ طبی سہولیات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا تجربہ سب سے پہلے میاں نواز شریف نے ضلع لودھراں میں کیا تھا اور پی آر ایس پی نامی این جی او جسے جہانگیر خان ترین نے متعارف کراتے ہوئے ضلع لودھراں کے تمام دیہی مراکز صحت اوربنیادی مراکز صحت کو اس این جی او کے ذریعے اپنی تحویل میں لیا تھا مگر وہ منصوبہ بہت ہی بری طرح سے ناکام ہوگیا تھا اور پھر صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ دو دوسنٹروں پر مختلف اوقات میں ایک ہی عملے کو ڈیوٹیاں دینے پر مجبور کیا گیا۔ اس تجربے کی بری طرح سے ناکامی کے بعد کئی سال تک اسے دھرایا گیا تاہم موجودہ پنجاب حکومت نے مرحلہ وار اس منصوبے پر دوبارہ عملدرآمد شروع کیا اور پہلے مرحلے میں صوبہ بھر کے دیہی مراکز صحت اور بنیادی مراکز صحت کو خود مختار بنانے کی پالیسی بنائی گئی اور اس پر عملدرآمد بھی کردیا گیا جس میں بہت سے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ پھر دوسرے مرحلے میں تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔







