بہاول پور: سلمیٰ جبیں قتل کیس، ملزمان منظر عام پر آگئے، زمین کا سودا، نئے ڈی پی او کیلئے ٹیسٹ کیس

بہاولپور (کرائم سیل) غیرت کے نام پر شادی کی ایک رات قبل باپ کے ہاتھوں قتل ہونے والی سلمیٰ کے قاتل چند روز منظر سے غائب رہنے کے بعد منظر عام پر آگئے ہیں اور قاتلوں کی جانب سے عجلت میں زمین بیچنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔جبکہ اذیت ناک قتل کا یہ واقعہ نئے آنے والے ڈی پی او بہاولپور عبد الوہاب کی توجہ کا منتظرہے۔ تھانہ ڈیرہ نواب کی حدود میں سلمیٰ جبیں کو مبینہ طور پر اپنے والد، بھائیوں اور چچا کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے واقعے کو 20 روز سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم تھانہ ڈیرہ نواب کے ایس ایچ او اور مقدمے کے تفتیشی افسر دلاور حسین کی مبینہ غفلت اور لاپروائی کے باعث مرکزی ملزم طالب حسین تاحال گرفتار نہیں ہو سکا، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالب حسین کو 18 دسمبر کو ہی پولیس نے حراست میں لے کر غائب کر دیا تھا، عبوری ضمانتوں کے بعد پیشی سے قبل اس کے غائب ہونے پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ موقع کی عینی شاہدہ اور مقتولہ کی پرورش کرنے والی امیرہ بی بی کے مطابق قتل میں مقتولہ کا بھائیوں والد سمیت چچا مختیار حسین بھی ملوث ہے جس نے عبوری ضمانت کروا رکھی ہے اور اس کی پیشی 3 جنوری کو مقرر ہے، تاہم اہلِ علاقہ میں یہ چہ مگوئیاں گردش کر رہی ہیں کہ مختیار حسین نے مبینہ طور پر مقامی ٹاؤٹوں اور چٹی دلالوں کے ذریعے پولیس سے مک مکا کر رکھا ہے اور پولیس کی تفتیش میں اسکے بے گناہ ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں جس کا فیصلہ پولیس تفتیش اور چالان مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا، جبکہ پولیس کے مطابق امیرہ بی بی کے بیانات قلم بند کر لیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود قتل کی اصل وجوہات تاحال واضح نہیں کی جا رہیں اور نہ ہی میڈیا کو کسی قسم کی تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں؛ بستی کے رہائشیوں اور قریبی عزیزوں کے مطابق قتل سے قبل مقتولہ کا والد اس کی شادی پر رضامند ہو چکا تھا اور کپڑوں کے نئے جوڑے بھی اس نے خرید کر دیے تھے، جس کے بعد قتل کا یہ واقعہ مزید پراسرار ہو گیا ہے، جب کہ روزنامہ قوم کی انویسٹی گیشن اور اہلِ علاقہ میں زیرِ گردش اطلاعات کے مطابق قتل کی ایک ممکنہ وجہ طالب حسین کے ایک خاتون کے ساتھ مبینہ ناجائز تعلقات اور اس کے اکسانے کا پہلو بھی ہے، جس خاتون کو پولیس نے حراست میں لے کر مبینہ طور پر مبینہ ڈیل کے بعد چھوڑ دیا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ واردات سے ایک ہفتہ قبل طالب حسین اسی خاتون کو لے کر امیرہ بی بی کے گھر آیا تھا، اس کے علاوہ کراچی میں مقیم طالب حسین کے ایک قریبی رشتہ دار کی جانب سے بھی مقتولہ کے رشتے پر ناراضی اور ملزمان ذیشان و مختیار پر اثر ورسوخ اور ملزمان کی مبینہ ذہن سازی کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور ان کرداروں کا تعین کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، جبکہ بہاولپور پولیس کے ترجمان کی خاموشی اور مؤقف نہ دینا اس ہائی پروفائل کیس میں مزید سوالات کو جنم دے رہا ہے، اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر سلمہ جبیں کے کلاس فیلوز، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے سی سی ڈی یا جے آئی ٹی کے ذریعے شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب کی خاتون وزیراعلیٰ اس کیس میں ذاتی دلچسپی لے کر غیرت کے نام پر ایک اعلی تعلیم یافتہ بچی کے قتل میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں تو آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں