الیکشن کمیشن کی کارروائی: ضمنی انتخابات میں ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر سیاسی شخصیات کو نوٹس
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 96 فیصل آباد اور این اے 185 ڈی جی خان سمیت مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد سیاسی رہنماؤں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
این اے 96 فیصل آباد کے ضمنی انتخاب میں ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، جبکہ اسی حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بلال چوہدری کو بھی وضاحت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن اس کیس کی سماعت 8 جنوری کو صبح 10 بجے کرے گا۔ یہ نوٹس ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کی رپورٹ کی بنیاد پر جاری کیے گئے، جس میں کارنر میٹنگ میں شرکت پر وزیر مملکت اور امیدوار پر 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سفارش کی گئی تھی۔
اسی طرح ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق دیگر کیسز کی سماعت کے لیے الیکشن کمیشن نے 13 جنوری کو صبح 10 بجے کی تاریخ مقرر کر دی ہے، جبکہ اس حوالے سے باقاعدہ کاز لسٹ بھی جاری کر دی گئی ہے۔ مظفرگڑھ کے حلقہ پی پی 269 سے میاں عالمدار عباس قریشی اور محمد اقبال خان کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جن کے کیسز کی سماعت بھی اسی روز ہوگی۔
دوسری جانب این اے 185 ڈی جی خان کے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے خلاف امیدوار سردار دوست محمد کھوسہ کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن 7 جنوری کو اس درخواست پر غور کرے گا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے مدمقابل امیدوار محمود قادر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا جائے اور ضمنی انتخاب کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام کیسز کی سماعت مقررہ تاریخوں پر کی جائے گی اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔







