تاجروں کا مؤقف: تقویمی سال 2025 کاروبار اور معیشت کے لیے تاریخ کا بدترین سال قرار
چھوٹے تاجروں اور صنعتکاروں نے تقویمی سال 2025 کو کاروبار، سرمایہ کاری، روزگار اور مہنگائی کے حوالے سے ملکی تاریخ کا بدترین سال قرار دے دیا ہے۔ تاجروں کے مطابق پورے سال کے دوران تجارتی سرگرمیاں 60 فیصد سے بھی کم رہیں، جبکہ سیاسی عدم استحکام نے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ غیر یقینی صورتحال اور مستقبل سے مایوسی کے باعث مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد شدید متاثر ہوا اور نئے تجارتی و صنعتی منصوبے قائم نہ ہو سکے۔
آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 عملاً تالہ بندی کا سال ثابت ہوا۔ بڑی تعداد میں صنعتوں اور کاروباری یونٹس کی بندش کے نتیجے میں بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا، جبکہ سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا رجحان بھی تیزی سے بڑھتا رہا۔ مسلسل بڑھتی ہوئی اور ناقابل برداشت مہنگائی نے 2025 کو غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے دعوے تو کیے گئے، مگر صنعت و تجارت کو تباہی سے نہ بچایا جا سکا۔ سال 2025 میں سرکاری شعبوں کی کارکردگی بدترین رہی، جبکہ حکمرانوں نے بیرونی سرمایہ کاری کے نام پر 35 غیر ملکی دورے کیے، لیکن ان دوروں کے نتیجے میں کوئی خاطر خواہ سرمایہ کاری ملک میں نہ آ سکی۔ اس کے برعکس مقامی سرمایہ مسلسل بیرون ملک منتقل ہوتا رہا۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی نظر نہیں آئی، اور 2026 میں بھی بہتری یا مشکلات کے خاتمے کی کوئی واضح امید دکھائی نہیں دے رہی۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈالر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور مصنوعی مہنگائی پر قابو نہ پانے کے باعث معیشت مسلسل زوال کا شکار رہی، جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتی چلی گئیں۔
تاجروں نے بتایا کہ کسی بھی سیل سیزن کے دوران مارکیٹوں میں روایتی رونق، گہما گہمی اور خریداری دیکھنے میں نہیں آئی۔ حکمرانوں نے مہنگائی میں کمی اور معاشی بحالی کے عملی اقدامات کرنے کے بجائے گمراہ کن اشاریوں کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ ایک جانب اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر رہی، تو دوسری جانب زمینی سطح پر تجارت بدترین حالت میں رہی۔
عتیق میر کے مطابق دال، گھی، دودھ، گوشت، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، جو ملک کا معاشی حب ہے، مکمل طور پر مافیاز کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں تاجر اور صنعتکار بھتہ خوروں کے نشانے پر رہے۔ چار کروڑ آبادی کا یہ شہر مہنگائی، بیروزگاری، تجاوزات، زمینوں پر قبضوں، ٹریفک کے مسائل، پانی کی قلت، بدامنی، لاقانونیت اور ناقص بلدیاتی نظام جیسے سنگین مسائل کا شکار رہا۔







