سال 2025 کے اختتام پر ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس اینڈ امیگریشن نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ادارے کی جانب سے کیے گئے نمایاں اور اصلاحی اقدامات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سال وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی خصوصی ہدایات پر ڈی جی پاسپورٹس کی قیادت میں اصلاحات اور بہتری کا سال ثابت ہوا۔
سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدید پرنٹنگ مشینوں کی تنصیب کے نتیجے میں پاسپورٹس کے بیک لاگ کا مسئلہ مستقل طور پر حل کر لیا گیا۔ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی تاریخ میں پہلی بار 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن پاسپورٹس کی پراسیسنگ اور ڈیلیوری سروس کا آغاز کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاسپورٹ ہیڈکوارٹرز اور دیگر دفاتر کی تزئین و آرائش کا کام بھی مکمل کیا گیا۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں ون ونڈو سروس متعارف کروائی گئی، جس سے انہیں پاسپورٹ سے متعلق خدمات ایک ہی جگہ پر حاصل ہونے لگیں۔ مزید برآں جدید سیکیورٹی فیچرز سے آراستہ ای پاسپورٹس اور نئی پاسپورٹ بک لیٹ تیار کی گئی۔ عوامی سہولت کے لیے نئے پاسپورٹ دفاتر اور اضافی کاؤنٹرز بھی قائم کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 55 لاکھ 72 ہزار 13 شہریوں نے پاسپورٹس حاصل کیے۔ سال 2025 میں نارمل کیٹگری کے تحت 32 لاکھ 75 ہزار 263 ایم آر پی پاسپورٹس جاری کیے گئے، جبکہ ارجنٹ کیٹگری میں 18 لاکھ 39 ہزار 487 اور فاسٹ ٹریک کے ذریعے 2 لاکھ 76 ہزار 789 پاسپورٹس کا اجراء کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سال 2025 کے دوران شہریوں میں جدید ای پاسپورٹس کے حصول کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا۔







