ملتان(کرائم سیل) پنجاب پولیس کی طرف سے بار بار کے انتباہ کے باوجود لوگ بغیر تصدیق کے گھریلو ملازمین رکھ کر اپنا گھر ایک نامعلوم کے حوالے کرنے کےحوالے سے محتاج نہیں ہوں گے تو بچوں کے اغوا اور ڈکیتیوں جیسے واقعات پر قابو پانے میں مشکلات آتی رہیں گی جیسا کہ ملتان کی ایک فیملی نے راہ چلتی خاتون کو اپنے گھر ملازمہ رکھ لیا اور اس ملازمہ نے اعتماد بناتے ہوئے دو ماہ کی بچی کو پیر صاحب سے دم کرانے کے بہانے اغوا کر لیا ۔شیخوپورہ سے 37 گھنٹے کے اندر اندر ملتان پولیس نے برامد کرکے شہریوں پر اپنے بھرپور اعتماد کو دو چند کر دیا ہے۔ اس واقعے کی اطلاع پولیس کو ملتے ہی پولیس حرکت میں آئی اور محض مذکورہ اغوا کار خاتون کے موبائل نمبر سے اس کے رشتہ داروں کو ٹریس کر کے حراست میں لیا اور پھر ڈیڑھ دن کے اندر اندر دو ماہ کی بچی کی اوکاڑہ سے بازیابی ممکن ہو سکی جسے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔ سی پی او ملتان محمد صادق ڈوگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ملتان پولیس کے لیے اس لحاظ سے ایک بہت بڑا چیلنج تھا کہ اغواکار خاتون کا کوئی اتا پتہ مغوی شیر خوار بچی کے والدین کے پاس نہ تھا حتیٰ کہ موبائل فون بھی نہ تھا۔ دو ماہ تک اغوا کار خاتون اس گھر میں ملازمہ بن کر رہنے کے باوجود گھر والے نہ تو مذکورہ ملازمہ سے اس کا شناختی کارڈ لے سکے اور نہ ہی یہ معلوم کر سکے وہ کہا کہ رہنے والی ہے اور نہ ہی اس کے پاس کو موبائل نمبر تھا لہٰذا یہ کیس نہ حل طلب تھا مگر ملتان پولیس نے مغوی بچی کی والدہ کے صرف اس ایک جملے پر کہ جب اس نے کہا کہ ان دو ماہ کے دوران مذکورہ اغوا کار خاتون نے ایک مرتبہ اس کے موبائل نمبر سے اپنے بھائی کو فون کیا تھا۔ اس پر ملتان پولیس نے ٹریکنگ شروع کی تو اس سفاک ملزمان مذکورہ فون نمبر کال کرنے کے فوری بعد ڈیلیٹ کر دیا تھا مگر ریکارڈ میں وہ سامنے آ گیا ۔اس پر 12 گھنٹے کے اندر اندر پولیس نے ملزمہ کے بھائی کو پریس کر لیا اور ملزمہ تک پہنچنے کے علاوہ دو ماہ کی بچی کو برامد کرنے میں کامیابی ملی۔ پولیس نے اغوا کار میاں بیوی کو گرفتار کر لیا ہے۔ سی پی او ملتان محمد صادق ڈوگر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا احساس کریں اور پولیس کی طرف سے جاری کردہ ہدایت نامے کے مطابق جب بھی کسی کو بھی ملازم رکھیں اس کا شناختی کارڈ اور پولیس ویریفکیشن ہر صورت میں کروائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔ سی پی او ملتان نے اس موقع پر جب دو ماہ کی بچی کو اس کے والدین کے حوالے کیا تو والدہ نے آبدیدہ ہوتے ہوئے پولیس کا شکریہ ادا کیا اور بچی کو برآمد کرنے والی ٹیم کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ اس بارے میں سی پی او ملتان نے کہا کہ کوئی بھی ملتان کا شہری گھر پر ملازم یا ملازمہ رکھنے سے پہلے اس کی تمام معلومات کے لئے اس شناختی کارڈ ہمیں دے تاکہ پولیس اس کی مکمل تصدیق کر کے آپ کو اگاہ کرے تاکہ دوبارہ کسی کی بچی فیملی کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش نہ آئے۔







