ویمن یونیورسٹی: کلثوم پراچہ کی توہین عدالت، ایڈوانس انکریمنٹس کٹوتی، احکامات اڑا دیئے

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ ملتان کے ایڈوانسڈ انکریمنٹس کے کیس میں واضح طور پر حکم امتناعی جاری ہونے کے باوجود بھی توہین عدالت کا ارتکاب کرکے اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے تمام ملازمین کے ایڈوانسڈ انکریمنٹس کاٹ لئے۔ وجہ عناد یہ بتائی جا رہی ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو کم نمبر ہونے کے باعث کوئی ایڈوانسڈ انکریمنٹ نہ مل سکا اور انا کا مسئلہ بناتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ جو بینیفٹ مجھے نہیں مل رہا وہ میرے دستخطوں سے دیگر ملازمین کو کیوں ملے۔ بتایا جاتا ہےکہ ان ایڈوانسڈ انکریمنٹس کٹوتی والے ملازمین میں ایک ایسی خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں جن کا 5 سالہ بیٹا اس وقت کینسر کے مرض کی وجہ سے زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ مگر اسلامیات ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والی پرو وائس چانسلر و عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے کسی بھی قسم کی رعایت نہ کی حتیٰ کہ ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود مذکورہ ٹیچر سمیت تمام ملازمین کے ایڈوانسڈ انکریمنٹس غیر قانونی طور پر کاٹ لیے۔ اس بارے میں وائس چانسلر آفس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کسی کو کہتی ہیں کہ ہم نے اپنے لیگل ایڈوائزر سے مشورہ کر لیا ہے اور میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ دوسری جانب غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کمشنر ملتان اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو ان کے شوکاز لیٹرز کا جواب دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ ایڈوانسڈ انکریمنٹس کٹوتی والے آرڈر کو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے خواتین یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ کے سیکشن 12(3) کے تحت 14 نومبر کی تاریخ ڈال کر جاری کیا تھا جس کو ایکٹ کے مطابق 45 دن کے اندر اندر سینڈیکیٹ سے منظور کروانا لازمی تھا جو کہ 28 دسمبر کو پورے ہو چکے تھے۔ مگر 28 دسمبر کے بعد وہ آرڈر غیر موثر ہونے اور کورٹ کا اسٹے آرڈر ہونے کے باوجود اس طرح کی کٹوتی نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔ حیران کن طور پر نئی تعینات ہونے والی خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس نے بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے غیر قانونی اقدامات کا ساتھ دیتے ہوئے کٹوتی والی سیلریز پر فوری دستخط کر دیئے اور خواتین یونیورسٹی ملتان کی قانون سے لا بلد انتظامیہ نے 45 دن بعد غیر موثر ہو جانے والے آرڈر کو غیر قانونی طور پر نافذ بھی کر دیا اور حیران کن طور پر فنانس ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے عارضی تعینات ریزیڈنٹ آڈیٹر علی مرتضیٰ نے بھی آرڈر غیر موثر ہونے کے باوجود کٹوتی والی سیلریز پر دستخط کر دیے۔ ویمن یونیورسٹی اساتزہ کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ان تمام تر غیر قانونی کاموں پر صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حیران کن طور پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اس وقت اپنے غیر قانونی کاموں اور فائلوں کو دبانے کے لیے مختلف میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خوشامدیں اور تعریفوں کے بیان دیتی نظر آ رہی ہیں مگر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی کرپشن کے بارے میں زیرو ٹالرینس کے بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے غیر قانونی کاموں اور کرپشن بارے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی خاموشی خواتین یونیورسٹی ملتان کی تعلیمی تباہی اور زیرو کوالٹی کا پیش خیمہ ہیں۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ارباب اختیار اتنے لاتعلق ہیں کہ اعلی تعلیمی اداروں کو نا اہل انتظامیہ کو دے کر چپ سادھ لیتے ہیں اسی وجہ سے پوری دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں تعلیمی معیار شدید ترین گراوٹ کا شکار ہے۔ تعلیمی حلقے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے درخواست کرتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے انتظامی ادارہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں بھی ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کی بجائے اعلیٰ تعلیمی اشخاص کو تعینات کریں تاکہ 78 سال گزرنے کے باوجود پاکستان کی یونیورسٹیوں کے تعلیمی معیار کو بہتر کیا جا سکے۔ اس بارے میں موقف کے لیے عارضی خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس اور ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دست راست و گرینڈ گالا کے کماؤ پوت محمد شفیق سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نہ تو کال موصول کی اور نہ کوئی جواب دیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفیکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے ہی شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سالہ گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے اپنے کماؤ پوت ایڈمن افیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالا، سیلاب فنڈز اور کانفرنسز کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی عدم توجہ کی وجہ سے غیر قانونی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں اور مبینہ طور پر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی WRIT OF QUO WARRANTO میں کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
کورٹ آرڈر میں صرف ریکوری کا لکھا ، کٹوتی
سے منع نہیں کیا:کمائوپوت شفیق نے ڈی ٹریک کیا
ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر آفس(باقی صفحہ7بقیہ نمبر18)
کے ذرائع کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو ان کے کماؤ پوت محمد شفیق کی جانب سے کورٹ آڈر کی غلط تشریح کرکے ڈی ٹریک کیا گیا کہ کورٹ آرڈر میں صرف ریکوری کا لکھا ہے اور انکریمنٹس کٹوتی سے منع نہیں کیا گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریکوری رٹ پٹیشن کا حصہ تھا جسے عدالت عالیہ نے REPRODUCE کیا۔ حکم میں واضح طور پر لکھا تھا کہ C.M.No.2 of 20254. This is an application for grant of interim relief. Notice. Till the next date of hearing, the respondents are restrained from deducting the amount in lieu of advance increments from the petitioners’ salaries in furtherance of impugned Office Order dated 14.11.2025. جبکہ وائس چانسلر جو کہ اسلامیات کی پروفیسر ہونے کے ناطے نہ تو انگریزی پڑھ سکتی ہیں اور نہ ہی لکھ سکتی ہیں چنانچہ ان کی آسانی کے لیے اس حکم امتناعی کا اردو ترجمہ اس طرح سے ہے۔”یہ درخواست عبوری ریلیف (عارضی حکمِ امتناع) کے حصول کے لیے دائر کی گئی ہے۔ نوٹس جاری کیا جائے۔ آئندہ سماعت کی تاریخ تک، مدعا علیہان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ 14-11-2025 کے متنازعہ دفتری حکم نامے کی روشنی میں درخواست گزاروں کی تنخواہوں سے ایڈوانس انکریمنٹس کے بدلے کوئی رقم منہا نہ کریں۔”

شیئر کریں

:مزید خبریں