ملتان: نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں پروفیشنل ڈگریز میں بغیر ایکریڈیشن داخلے جاری

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) جنوبی پنجاب کے بڑے شہر ملتان میں متعدد نجی و سرکاری تعلیمی ادارے پروفیشنل ڈگریز میں بغیر ایکریڈیشن داخلے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی ایک انکشاف ملتان کی متعدد نجی و سرکاری یونیورسٹیوں میں بھی سامنے آیا ہے جن کی جانب سے جاری کئے گئے داخلوں کے اشتہار کے مطابق یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایسے اداروں میں بھی کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریز میں نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کی منظوری کے بغیر غیر قانونی داخلے دھڑلے سے جاری ہیں۔ اس طرح یہ ادارے بچوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے۔ روزنامہ قوم کے ایجوکیشن ریسرچ سیل کو نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق ملتان میں جن اداروں کو مکمل ایکریڈیشن حاصل ہے ان میں ایئر یونیورسٹی ملتان کیمپس کو بی ایس کمپیوٹر سائنس میں 50، بی ایس سافٹ ویئر انجینئرنگ میں 50، بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو 100، انسٹیٹیوٹ آف سدرن پنجاب کوبی ایس کمپیوٹر سائنس میں 100،نمل یونیورسٹی ملتان کیمپس کو بی ایس کمپیوٹر سائنس میں 150 طلباء و طالبات کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ جن اداروں نے اپنا زیرو وزٹ منظور کروایا ہے ان میں ایئر یونیورسٹی ملتان کیمپس کو بی ایس آئی ٹی میں 50، بی ایس سائبر سکیورٹی میں 50 جبکہ سٹی کالج آف سائنس اینڈ کامرس کو بی ایس کمپیوٹر سائنس، گورنمنٹ گریجویٹ کالج بوریوالہ کو بی ایس کمپیوٹر سائنس میں 50، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کو بی ایس آئی ٹی میں 50، یونیورسٹی آف ایجوکیشن ملتان کو بی ایس کمپیوٹر سائنس میں 50 طلباء و طالبات کی اجازت ملی۔ ان کے علاوہ ملتان بھر کے کسی بھی تعلیمی ادارے کو کسی بھی کمپیوٹر سے متعلقہ پروگرامز میں داخلے کی اجازت نہ ہے ۔ ملتان کے باقی تمام تعلیمی ادارے غیر منظور شدہ یا ایکسپائرڈ مضامین میں داخلے کرتے ہوئے طلبا و طالبات کے مستقبل کے ساتھ گھناؤنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس بارے تعلیمی اداروں کو حکومتی اداروں کی جانب سے کئی بار انتباہ جاری کیا گیا کہ طلباء و طالبات تعلیمی اداروں میں داخلے لینے سے پہلے معلومات حاصل کر لیں کہ آیا ان تعلیمی اداروں کے پاس بیچلر ڈگری پروگرامز میں کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریوں کی نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے ایکریڈیشن یعنی اجازت نامہ موجود ہے یا نہیں تاکہ کمپیوٹر کونسل سے ایکریڈیشن نہ ہونے کی صورت میں داخلہ نہ لینے سے ان کا مستقبل محفوظ رہے۔ روزنامہ قوم طلباءو طالبات کو مسلسل آگاہی دے رہا ہے ۔ یاد رہے کہ نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کے مطابق کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریوں جن میں بی ایس کمپیوٹر سائنسز ، بی ایس سوفٹ ویئر انجینئرنگ ، بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ، بی ایس انفارمیشن سسٹمز، بی ایس بایو انفارمیٹکس، بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس ، بی ایس ڈیٹا سائنسز ، بی ایس ساءبر سیکورٹی ، بی ایس ملٹی میڈیا اینڈ گیمنگ اور بی ایس کمپیوٹر انجینئرنگ شامل ہیں کو نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور ہونا لازمی ہیں۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے 16 فروری 2005 کو قومی سطح پر کمپیوٹر ڈگری پروگرامز کی منظوری کے لیےنیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کو نوٹیفائی کیا تھا۔ جس کی بابت یونیورسٹیوں کو متعدد بار اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ وہ اپنے کمپیوٹر سے متعلقہ پروگرامز کو نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور کروا لیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے جاری شدہ اعلامیہ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کسی بھی یونیورسٹی کے غیر منظور شدہ کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگری پروگرامز کو تصدیق نہیں کرے گی۔ جس سے ایسی پرائیویٹ و گورنمنٹ یونیورسٹیوں سے غیر منظور شدہ کمپیوٹر گریجویٹس سرکاری اور پرائیویٹ ملازمتوں، بیرون ممالک سے اعلیٰ تعلیم، بیرون ممالک میں ملازمت کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے اور ان طلباء و طالبات کے مستقبل تاریک ہونے کے خدشات ہیں ۔ 5 مارچ 2024 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل کمپیوٹنگ کونسل کی طرف سےطلباء و طالبات، والدین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ہر گز ان اداروں میں ایڈمیشن نہ لیں جن کی ڈگریاں نیشنل کمپیوٹنگ کونسل سے منظور شدہ نہیں ہیں۔ لہٰذاطلباء و طالبات کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ غیر منظور شدہ اداروں کے مندرجہ بالا پروگرامز میں داخلہ لینے سے پہلے تسلی کر لیں تاکہ بعد ازاں پریشانی سے بچا جا سکے ۔ نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل میں بیٹھے ہوئے افراد اتنے سست ہو چکے ہیں کہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود ویب سائٹ پر ایسے نوٹیفکیشن لگے ہوئے ہیں جن کی آخری تاریخ گزرے بھی ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کی ویب سائٹ کی طرح کسی بھی قسم کے ایکریڈیشن کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس بھی دستیاب نہیں ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں