
سیت پور(نامہ نگار )ستھرا پنجاب میں مبینہ کرپشن ،ناانصافی مقامی شہری کو مستقل کرنے کا جھانسہ دے کر لوٹ لیا گیا۔ درجنوں مزیدافراد بھی لٹ گئے۔ متاثرین کا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے تحقیقات کا مطالبہ تفصیل کے مطابق تحصیل علی پور میں صفائی ستھرائی کی ذمہ داری ادا کرنے والی نجی کمپنی ڈائیوو کے مقامی افسران نے سینکڑوں شہریوں سے ستھرا پنجاب پروگرام میں مستقل کرنے کا جھانسہ دے کرمبینہ طورپر کئی ملین روپے کی رقوم ہڑپ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد اہلکار اچانک بغیرنوٹس دیئے ملازمت سے فارغ کردیئے ہیں جبکہ لوٹ مار کے لئے مقامی ڈائیوو اہلکاروں نے سب سپروائزر کا عہدہ بھی تخلیق کررکھا تھا جس کا کمپنی کی فائلوں میں کوئی اندراج نہیں ہے ستھرا پنجاب کے تحت تحصیل علی پور بھر میں 690اہلکاروں کی سیٹیں منظور شدہ ہیں لیکن مقامی ڈائیوو افسران نے بازپرس نہ ہونے کی وجہ سے ساڑھے نو سوسے زائد ملازمین بھرتی کئے ہوئے تھے۔ ستھرا پنجاب پروگرام میں بطور سب وائزر کرنے والے مقامی نوجوان محمد آصف شہزاد ڈیسی نے میڈیا کو تفصیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھ سے 50 ہزار روپے اس وعدے پر لیے گئے کہ میری نوکری مستقل کر دی جائے گی۔ مجبوری اور مستقبل کے خیال سے یہ رقم دی مگر تین ماہ کام لینے کے بعد بغیر کسی نوٹس یا وجہ کے مجھے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔یہ رقم لینے اور بھرتی کا عمل سپر وائزر معین شکور کے ذریعے کیا گیا جن کے ساتھ ایک ایجنٹ بھی متحرک تھا جو لوگوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر رقم وصول کرتا رہا۔ میرے پاس اس معاملے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مذکورہ سپروائزر ماضی میں بھی کرپشن میں برطرف ہو چکا ہےمگر اس کے باوجود دوبارہ بڑے عہدے پر فائز کر دیا گیا ہے اس نے بتایا ہے کہ میں انصاف کے لیے بارہا متعلقہ دفاتر کے چکر لگا چکا ہوں مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔میری اعلیٰ حکام، ستھرا پنجاب انتظامیہ اور اینٹی کرپشن سے گزارش ہے کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے۔ مجھ سے لی گئی رقم واپس دلائی جائے۔ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔







