بہاولپور (کرائم سیل) جعلی دستاویزات پر پروفیسر بھرتی ہونے والے چولستان ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے پرو وائس چانسلر مظہر ایاز کے دور میں غیر قانونی تعیناتیاں اور سینڈیکیٹ کو دھوکہ دہی، کرپشن سے انکار پر ملازمین کو بے وجہ سزائیں ،جی حضوری کرنے والے سب انجینئر پر پرکشش عہدوں کی نوازشات کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں،باوثوق ذرائع کے مطابق جعلی دستاویزات کی بنیاد پر پروفیسر بننے والے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز اور غیر قانونی طور پر تعینات رجسٹرار ڈاکٹر فیصل صدیق نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کرپشن کا منظم نظام قائم کر رکھا ہے، کرپشن میں ساتھ نہ دینے پر سیکرٹری ٹو وائس چانسلر محمد ساجد کو نشانِ عبرت بناتے ہوئے من پسند شخص کو سیکرٹری تعینات کیا گیا اور اصل سیکرٹری کو یکے بعد دیگرے غیر متعلقہ شعبوںکبھی لائبریرین، کبھی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سپورٹس اور پھر انسٹیٹیوٹ میں اسسٹنٹ منتقل کیا گیا جو یونیورسٹی ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہےجبکہ پرو وائس چانسلر کو روزمرہ امور تک محدود رہنے کی سرکاری تنبیہ بھی غیر مؤثر ثابت ہوئی۔ مزید یہ کہ غیر قانونی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے یونیورسٹی کے واحد ڈپٹی رجسٹرار سلمان مرزا کو رجسٹرار آفس سے ہٹا کر ایڈیشنل لائبریرین بنا دیا گیا حالانکہ ایسے تبادلوں کا اختیار پرو وائس چانسلر کو حاصل ہی نہیں، اسی دوران کرپشن میں مبینہ معاون سب انجینئر سجاد بھٹی کو چار اہم عہدوںبیک وقت ٹرانسپورٹ آفیسر، سیکیورٹی آفیسر، بلڈنگ اینڈ ورکس اور اسٹیٹ انچارج سے نواز کر گریڈ 20 کے افسر کو ہٹا دیا گیا، سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال اور سرکاری خزانے سے مفت پٹرول کی فراہمی بھی اسی سلسلے کی کڑیاں بتائی جاتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سجاد بھٹی پرو وائس چانسلر اور ان کے بیٹوں کو بھی سرکاری گاڑیاں فراہم کرتا ہے اور خود بھی غیر قانونی طور پر سرکاری گاڑی استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب سینڈیکیٹ کے واضح احکامات کے باوجود خزانہ دار کی تعیناتی میں پنجاب حکومت سے ڈیپوٹیشن پر ماہر افسر لانے کے بجائے ایک فیکلٹی ممبر کو ہٹا کر دوسرے فیکلٹی ممبر کو تعینات کرنے کی دستاویزات گورنر آفس بھجوا کر سنڈیکیٹ کو دھوکہ دیا گیا، جس پر تعلیمی و سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور اعلیٰ حکام سے فوری تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔







