ملتان ( کرائم سیل)تحصیل جلالپور پیروالہ میں ریت کی مبینہ غیر قانونی مائننگ اور سرکاری نرخوں سے زائد وصولیوں کے انکشاف نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز ملتان کی کارکردگی، نگرانی کے نظام اور مبینہ خاموش سرپرستی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو موصول ہونے والی تحریری شکایات، دستاویزی شواہد اور منظور شدہ نقشہ جات (عکس شجرہ) کے تقابلی جائزے سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ ٹھیکیداروں کی جانب سے اپنی قانونی حدود سے تجاوز، متعلقہ محکمے کے افسران کی مبینہ ملی بھگت یا مجرمانہ غفلت کے بغیر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔دستاویزات کے مطابق، جلالپور پیروالہ میں ریت کا ٹھیکہ ایک مخصوص اور واضح طور پر نشان زدہ علاقے کے لیے الاٹ کیا گیا تھا، تاہم مبینہ طور پر گزشتہ ڈھائی برس سے موضع کنہوں کے علاقے سے بھی ریت اور مٹی نکالی جا رہی ہے، حالانکہ یہ علاقہ سرکاری طور پر منظور شدہ نقشے میں شامل ہی نہیں۔ قانونی ماہرین اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ موقع پر جا کر حد بندی (Demarcation) اور نقشوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، مگر طویل عرصے تک اس خلاف ورزی پر خاموشی محکمے کے اندر موجود مبینہ غیر اعلانیہ تعاون کی نشاندہی کرتی ہے۔مزید برآں، درخواست گزار محمد عارف کی تحریری شکایت پر جب مقامی انتظامیہ، خصوصاً تحصیلدار، نے کارروائی کا آغاز کیا تو الزام ہے کہ ٹھیکیدار کے نمائندوں کو محض آدھے گھنٹے کی سرسری سماعت کے بعد، بغیر مکمل ریکارڈ جانچ اور موقع کا تفصیلی معائنہ کیے، چھوڑ دیا گیا۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف شکایت کنندہ بلکہ دیگر شہریوں میں بھی انتظامی کارروائی کی سنجیدگی پر شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، یہ معاملہ محض جلالپور پیروالہ تک محدود نہیں بلکہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز میں ایک مخصوص اور مسلسل دہرایا جانے والا “طرزِ عمل” پایا جاتا ہے۔ رواں برس مارچ 2025 میں تھانہ سیتل ماڑی کے علاقے بستی بوہڑ میں بھی ٹھیکیدار کی جانب سے مبینہ ناجائز وصولیوں کا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جہاں متاثرہ شہریوں نے رسیدوں کی صورت میں ٹھوس شواہد پیش کیے۔ اس کے باوجود محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے افسران نے تسلیم نامی شہری کی درخواست کے باوجود مہینوں تک کوئی مؤثر کارروائی نہ کی۔عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ محکمے کی اس مبینہ عدم توجہی اور کمزور نگرانی کے باعث ٹھیکیداروں کے حوصلے اس حد تک بلند ہو چکے ہیں کہ وہ اپنی قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے شہریوں سے زائد رقوم وصول کرتے ہیں، جبکہ انکار کی صورت میں پولیس کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کروانے جیسے ہتھکنڈے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔اس سنگین صورتحال پر مؤقف جاننے کے لیے جب محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال موصول نہیں کی، جسے شہری حلقے محکمے میں موجود جوابدہی کے فقدان کی ایک اور مثال قرار دے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اب اس پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے کہ نقشوں کی خلاف ورزی، غیر قانونی مائننگ اور مقررہ نرخوں سے زائد وصولیوں میں محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے کون کون سے افسران براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض قواعد کی خلاف ورزی نہیں بلکہ کروڑوں روپے کے سرکاری ریونیو کی مبینہ چوری سے جڑا ہوا ہے، جو اعلیٰ سطحی سرکاری سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔







