نان کسٹم پیڈ سامان فاٹا کے نام پر درآمد، پنجاب میں فروخت، اربوں روپے کی ٹیکس چوری

ملتان (سہیل چوہدری سے) پنجاب میں فاٹا ٹیکس فری زون کے نام پر اربوں روپے کی سمگلنگ کسٹم افسران کی ملی بھگت سے جاری ہے ۔حکومت کو اربوں روپے کا کسٹم ڈیوٹی کی مد میں نقصان پہنچایا جا رہا ہے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک منظم سمگلنگ نیٹ ورک کام کر رہا ہے جو سابقہ فیڈرلی ایڈمنسٹریٹڈ ٹرائبل ایریاز (فاٹا) کے ٹیکس فری سٹیٹس کا غلط استعمال کرتے ہوئے نان کسٹم پیڈ سامان کی درآمد اور فروخت کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ نیٹ ورک کسٹم افسران کی مکمل پشت پناہی سے چل رہا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو ماہانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس سمگلنگ کی وجہ سے مجموعی طور پراربوں روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے، جو ملک کی معیشت کو شدید متاثر کر رہی ہے۔فاٹا، جو اب خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے طور پر جانا جاتا ہے، ٹیکس فری زون کا درجہ رکھتا ہے۔ اس سٹیٹس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، سمگلرز فاٹا کے نام پر کنٹینرز بک کراتے ہیں جن میں نان کسٹم پیڈ سامان بھرا جاتا ہے۔ یہ سامان پنجاب کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ سٹیٹوری ریگولیٹری آرڈر (ایس آر او) کے تحت یہ درآمدات کی جاتی ہیں، لیکن اصل میں یہ سامان فاٹا کی حدود سے باہر بیچا جاتا ہے، جو ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ فاٹا میں موجود فرضی کمپنیاں جیسے روز ٹیکسٹائل، فائیو سٹار ٹیکسٹائل، نیو مصطفیٰ ٹیکسٹائل، ایڈوانس ٹیکسٹائل اور سن رائز ٹیکسٹائل کے نام پر سامان درآمد کیا جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں ٹیکسٹائل خام مال اور کپڑے کی شکل میں اشیا منگواتی ہیں، جو بعد میں سمگلرز پنجاب بھر میں فروخت کرتے ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں اس طرح کی ٹیکس چوری کی مالیت اربوں روپے تک پہنچ چکی ہے، جہاں فاٹا/پاٹا کی چھوٹ کا غلط استعمال کرکے خام مال کو ٹیکس فری درآمد کرکے پنجاب اور دیگر علاقوں میں بیچا جاتا ہے۔اس نیٹ ورک میں ملوث اہم سمگلرز میں یاسر خان، اسرار خان، اجمل خان، انور افریدی، وہاب خان، افضال، نور محمد، نبی بخش، سیلاب خان اور دیگر شامل ہیں۔ یہ افراد فاٹا کے نام پر بک کیے گئے کنٹینرز کا سامان ملتان، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، گوجرانوالہ اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں فروخت کر رہے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں ٹیکس چھوٹ کی وجہ سے سٹیل، ٹیکسٹائل، تمباکو اور چائے جیسی اشیا کی سمگلنگ میں سالانہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے، جو مجموعی طور پر جی ڈی پی کا 10 فیصد تک نقصان پہنچا رہی ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کسٹم حکام کی جانب سے اس طرح کی سمگلنگ پر کئی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ حال ہی میں، 78 مبینہ کرپٹ کسٹم افسران اور سمگلرز کے نیٹ ورک کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے، جہاں 37 افسران اور 41 سمگلرز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایف بی آر نے فاٹا کی چھوٹ کے غلط استعمال سے منسلک ایک ارب روپے کی ٹیکس فراڈ بھی پکڑا ہے۔ تاہم، کسٹم افسران کی ملی بھگت کی وجہ سے یہ سمگلنگ عروج پر ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے سخت مانیٹرنگ اور قوانین کی ضرورت ہے، ورنہ معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں