ریحان ناصر کی ڈی ای این ٹو تعیناتی کے دوران روجھان میں بھی گھپلے

بہاولپور (کرائم سیل)ملتان ڈویژن جھنگ سیکشن میں میگا کرپشن سکینڈل، ڈی ای این ون ریحان صابر کے خلاف مزید تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔ ذرائع کے مطابق ریحان صابر نے ملتان ڈویژن میں طویل عرصہ تعیناتی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرپشن کا منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ روزنامہ قوم کی مسلسل نشاندہی کے بعد سابقہ ڈی ایس، ڈپٹی ڈی ایس اور ڈی ای این ناصر حنیف تو تبدیل ہو گئے تاہم ریحان صابر نہ صرف ملتان ڈویژن میں برقرار رہے بلکہ ڈی این ٹو سے تبادلہ کروا کر ڈی ای این ون تعینات ہوگئے تاکہ لوٹ مار کا سلسلہ چلتا رہے۔ اس دوران انہوں نے اپنی کرپٹ ٹیم کے ساتھ ساتھ ناصر حنیف کے مبینہ فرنٹ مینوں کو بھی اپنی ٹیم میں شامل کر کے منظم گروہ تشکیل دے دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الشریف کنسٹرکشن کمپنی جس کے مالک رشید ارائیں ہیں اور جو سابقہ ڈی ای این ناصر حنیف کے قریبی رشتہ دار بتائے جاتے ہیں، کے ساتھ مل کر 2024ء میں جب وہ ڈی ای این ٹو تعینات تھے نے روجھان میں بارشوں سے متاثرہ ٹریک کی مرمت کے نام پر بڑے پیمانے پر گھپلے کیے ۔ اسی پوسٹنگ کے دوران مزید سنسنی انکشاف ہوا ہے کہ ریحان صابر اے ای این کی کسی پروپوزل کو خاطر میں لائے بغیر اپنے فرنٹ مین پی ڈبلیو آئی عمران بشیر کے ذریعے براہِ راست معاملات طے کرتے رہے، حتیٰ کہ تبادلے بھی اسی چینل کے ذریعے کروائے گئے۔ریکارڈ کے مطابق ڈی این ٹو کے دور میں میٹ کی مین اور گینگ مینوں کو پیسوں کے حصول کے لیے غیر قانونی ٹرانسفر کیے گئے جو کہ ریکارڈ کی پڑتال سے پتہ چل سکتا ہے، جبکہ انکوائریوں کو بھی مبینہ مک مکا کے ذریعے دبایا جاتا رہا ملازمین کو پیسے لیکر گھوسٹ ملازمین نفری کے نام پر چھوڑا جاتا تھا جسکی انکوائری ابھی تک زیر التواء ہیں اور ریحان صابر اپنے فرنٹ مینوں کو لیکر ڈی ای این ون تعینات ہوگئے اور جھنگ میں سیلاب کے بعد ٹریک کی تباہی کے بعد ٹریک بحالی کے کاموں میں ٹینڈرز اس انداز سے ڈیزائن کیے گئے کہ دیگر کمپنیاں ڈس کوالیفائی ہو گئیں، ٹو اینویلپ سسٹم ہائی جیک کیا گیا اور ناقص مٹی کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جو تاحال نامکمل ہے۔ اس کے برعکس خانیوال سیکشن میں ایف ڈبلیو او نے اسی نوعیت کا کام 25 دن میں مکمل کر لیا۔روجھان میں ہونے والے ناقص کام جس کے افسران اور ٹھیکیدار بھی وہی تھے جو اب بڑے پیمانے پر گھپلوں میں ملوث ہیں۔ اس معاملے پر کوٹ ادو کے رہائشی ایک شہری نے وزیراعظم پاکستان، ایف آئی اے اور ریلوے کے اعلیٰ حکام کو درخواستیں ارسال کر کے ڈی ای این ون ریحان صابر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات کی صورت میں مزید بڑے انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔موقف لینے پر ریحان صابر نے بتایا کہ گھوسٹ ملازمین کی انکوائری ڈی ای این ٹو خرم کر رہے ہیں اور میرے اوپر کرپشن کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں