ملتان ( سٹاف رپورٹر)خواتین یونیورسٹی ملتان ایک شدید انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ چکی ہےجہاں حیران کن طور پر وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ساتھ خزانچی کی ذمہ داری سنبھالنےکیلئے کوئی بھی خاتون افسر یا استاد تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق اس غیر معمولی صورتحال کی بنیادی وجہ توہینِ عدالت کے مقدمات، مبینہ مالی بے ضابطگیاں اور وائس چانسلر کے غیر قانونی و متنازع انتظامی فیصلے ہیںجنہوں نے یونیورسٹی کے اندر خوف و بے یقینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اکتوبر 2025 میں اس وقت کی خزانچی ڈاکٹر سارہ مصدق نے مبینہ طور پر وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی دھوکہ دہی اور فراڈ پر مبنی کارروائیوں سے دلبرداشتہ ہو کر ان کے ساتھ مزید کام کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ ان کے انکار کے بعد خزانچی کا اضافی چارج ڈاکٹر تنزیلہ کو سونپا گیا، تاہم حالات نے جلد ہی نیا رخ اختیار کر لیا۔ ایڈوانس انکریمنٹس کے ایک توہینِ عدالت کیس میں جب عدالت کی جانب سے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے کہنے پر ڈاکٹر تنزیلہ کا نام فہرست میں شامل کیا گیا تو انہوں نے واضح موقف اختیار کیا کہ“سارا مسئلہ وائس چانسلر کا ہے، اس کا ملبہ میں اپنے اوپر کیوں لوں؟ اسی بنیاد پر ڈاکٹر تنزیلہ نے خزانچی کے طور پر مزید کام کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈکٹر تنزیلہ کے انکار پر، ذرائع کے مطابق، وائس چانسلر شدید ناراض ہو گئیں اور یونیورسٹی کے تقریباً تمام ملازمین کے ایڈوانس اور پری میچور انکریمنٹس کاٹنے کے احکامات جاری کر دیے، جسے ملازمین نے اجتماعی سزا اور انتقامی کارروائی قرار دیا۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ڈاکٹر تنزیلہ کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں زبردستی خزانچی کی سیٹ پر برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے ڈاکٹر تنزیلہ چھٹی پر چلی گئیں۔ اس کے بعد خزانچی اور ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (DDO) کا چارج ڈاکٹر عشرت ریاض کو دے دیا گیا، جسے روزنامہ قوم کی قانونی ماہرین کی ٹیم نے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ جب اس اقدام پر روزنامہ قوم کی جانب سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انتظامیہ نے عجلت میں ڈاکٹر عشرت ریاض سے چارج واپس لے لیا۔ اس دوران خزانچی کا چارج ڈاکٹر رائمہ نذر کو دینے کی سفارش کی گئی، مگر انہوں نے بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ساتھ بطور خزانچی کام کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس کے بعد وائس چانسلر نے ڈاکٹر مدیحہ سے ذاتی طور پر درخواست کی اور یہاں تک کہا کہ “میرے ساتھ کوئی بھی خزانچی بننے کو تیار نہیں، براہِ کرم آپ ذمہ داری سنبھال لیںمگر ڈاکٹر مدیحہ نے بھی ذاتی وجوہات اور حالات کے پیش نظر انکار کر دیا۔ بات یہیں ختم نہ ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر نے مزید تین اساتذہ کو فون کر کے خزانچی بننے کی درخواست کی، تاہم کسی ایک نے بھی آمادگی ظاہر نہ کی۔ بعد ازاں ڈاکٹر انعم جاوید سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے گھر سے مشورے کے بعد جواب دینے کی بات کی، مگر وائس چانسلر نے جلد بازی میں ان کا خزانچی تعیناتی لیٹر جاری کر دیا۔ جمعہ کے روز جب ڈاکٹر انعم جاوید کو جوائننگ کے لیے کال کی گئی تو انہوں نے بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے خزانچی کا عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد جمعہ کے روز 3 ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسنز کو ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے از خود کال کر کے درخواست کی مگر صورتحال یہ ہے کہ پوری یونیورسٹی میں کوئی بھی خاتون وائس چانسلر کے ساتھ بطور خزانچی کام کرنے کو تیار نہیں۔ اور اس وقت خواتین یونیورسٹی ملتان میں کوئی بھی خزانچی تعینات نہ ہیں۔اور خزانچی کی تعیناتی کا فیصلہ سوموار کو کیا جائے گا۔ مزید تازہ ترین معلومات کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ان کے کماؤ پوت نے پورا ویک اینڈ خواتین ٹیچرز کو خزانچی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر فی الحال کسی نے ذاتی وجوہات کا بہانہ کیا تو کسی نے فیملی کی طرف سے اجازت نہ ملنے کا بہانہ کیا۔ ایک اور ٹیچر سے زبردستی کی گئی تو انہوں نے بھی ایک ماہ کی چھٹی کی دھمکی دے ڈالی۔ ایک ٹیچر نے صحت کی خرابی کا بہانہ کیا۔ چنانچہ اس منصوبے پر فیل ہو جانے کے بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے گرینڈ گالا کے کماؤ پوت محمد شفیق نے مشورہ دیا کہ بروز سوموار اچانک ٹیچرز کو باری باری بلا کر منا لیں اور جو مان جائے اسے سوچنے یا مشورہ کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اور فوری لیٹر نکال کر جوائننگ لی جائے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق رجسٹرار ڈاکٹر ثمینہ اختر اور کنٹرولر ڈاکٹر حنا علی نے اپنے استعفیٰ تیار کر کے اپنے آفس میں محفوظ کر لیے ہیں جو کہ کسی بھی وقت متوقع ہے۔ ویسے پوری یونیورسٹی یہ سیٹیں لینا چاہتی ہے مگر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ساتھ کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ خزانچی کا چارج لینے والی افسر پر توہینِ عدالت عائد ہونے کا شدید خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ان کا پورا کیریئر داؤ پر لگ سکتا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے انکریمنٹ خود روکے مگر ہائیکورٹ میں خزانچی پر توہین عدالت کی سفارش کی۔ قانونی ماہرین کے مطابق توہینِ عدالت ثابت ہونے کی صورت میں نہ صرف مستقبل میں چیئرپرسن، پرنسپل آفیسر (خزانچی، کنٹرولر، رجسٹرار) بننے کے مواقع ختم ہو سکتے ہیں بلکہ کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے بھی نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بھی ان کا نام کنٹرول لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے۔







