رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)بی آئی ایس پی ڈیجیٹل اکاؤنٹ لوٹ مار اسکینڈل”قوم”کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت سنٹرانچارج کی لاکھوں روپے کی لوٹ مار منظر عام پر آگئی،گورنمنٹ پائلٹ سکول،گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول تاج گڑھ میں50 سے زائد ڈیوائس ہولڈر وں کا راج،فی سم 1500 میں فروخت،روزانہ 1 کروڑ 50 لاکھ روپے کی دیہاڑی لگائی جانے لگی، سنٹرانچارج جام بشیر،رفیق دھریجہ اور عمران نامی ڈیوائس ہولڈروں سے 5لاکھ روپے تک مبینہ بھتہ وصول کرنے لگے،تاج گڑھ سکول کے سینٹرانچار ج رفیق دھریجہ نے بی آئی ایس پی کے سموں،سروے کروانے کی مد میں لاکھوں روپے وصول کرکے ترنڈہ سوائے خان بستی باری کے قریب تقریباً2 کروڑ روپے مالیت کا زرعی رقبہ خرید کرلیا،اسسٹنٹ ڈائریکٹر طلحہ بن امام بھی مذکورہ سینٹروں سے ہر ماہ 15 لاکھ روپے منتھلی وصول کرنے لگا،مافیا نے خواتین اور مردوں پر مشتمل ایجنٹ بھرتی کرلئے”نہ قطار نہ انتظار”کی مد میں خواتین سےایجنٹوں کے ذریعے معاملات طے کرکے سموں کا اجراء کیا جانے لگا،بی آئی ایس پی کے سینٹر انچارج نے بھتہ وصول کی الزامات کی تردید کردی،ہمارا کام رجسٹریشن کرنا ہے جو ہم ایمانداری سے کر رہے ہیں،خواتین سے پیسوں کی وصول کی شکایات پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے ایجنٹوں اور ڈیوائس ہولڈروں کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے،بی آئی ایس پی حکام۔تفصیل کے مطابق پنجاب حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شفافیت لانے،ڈیوائس مافیا کی غیر قانونی کٹوتیوں کو روکنے کیلئے بی آئی ایس پی ڈیجیٹل اکاؤنٹ سسٹم متعارف کروایا جو کہ ان دنوں بی آئی ایس پی کے افسران ،قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور ڈیوائس مافیا کیلئے کمائی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گورنمنٹ پائلٹ سکول اور گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول تاج گڑھ میں سموں کے اجراء کیلئے سینٹرقائم کئے گئے ہیں،ذرائع کے مطابق تاج گڑھ سکول میں 25 اور پائلٹ سکول میں تقریباً29 ڈیوائس ہولڈر سموں کا اجراء کرنے میں مصروف ہیں جنہوں نے مرد اور خواتین پر مشتمل ایک ایجنٹ گروہ بنا رکھا ہے جو غریب،نادار اور سادھ لوح خواتین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں،ذرائع نے بتایا کہ فی سم 1500 روپے فروخت کی جارہی ہے اور مذکورہ دونوں سینٹروں پر روزانہ کی بنیاد پر تقریباً10 ہزار سموں کا اجراء کیا جاتا ہے،1500 کے حساب سے 10ہزار سموں کے اجراء کی مجموعی رقم ڈیڑھ کروڑ روپے بنتی ہے جو بی آئی ایس پی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹراور اسکے کماؤ پتروں جام بشیر،رفیق دھریجہ اور عمران نامی ڈیوائس مافیا میں بندر بانٹ ہوتی ہے،ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے سینٹرانچارج جام بشیر،رفیق دھریجہ اور عمران نامی شخص دونوں سینٹروں 3 لاکھ روپے روزانہ بھتہ وصول کرتے ہیں،جب اسسٹنٹ ڈائریکٹر طلحہ بن امام کو ہر ماہ دونوں سینٹروں سے 15 لاکھ روپے منتھلی اکھٹی کر کے دیتے ہیں،ذرائع نے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا تاج گڑھ ہائر سیکنڈری سکول کے سینٹرانچارج رفیق دھریجہ نے بی آئی ایس پی کی سموں اور سروے کروانے کے نام پر لاکھوں روپے کی لوٹ مار کرکے ترنڈہ سوائے خان کے قریب بستی باری میں تقریباً2 کروڑ روپے مالیت کا زرعی رقبہ بھی خرید کرلیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ڈیوائس مافیا ایجنٹوں کے ذریعے فی خاتون 1500 روپے وصول کرتے ہیں جس میں 500 ایجنٹ کو اور 1000 ڈیوائس مافیا کا حصہ ہوتا ہے لوٹ مار کا یہ سلسلہ گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ تمام تر حالات سے واقف ہونے کے باوجود کاروائی کرنے سے گریزاں ہے ،معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی وفاقی ادارہ ہے جن کے خلاف کاروائی کرنا ہمارا کام نہیں ہے،اس حوالے سے جب موقف جاننے کیلئے بی آئی ایس پی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر طلحہ بن امام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون کالز اٹنڈ نہیں کیں جبکہ سینٹرز انچارج جام بشیر،رفیق دھریجہ اور عمران نے بھتہ وصول کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے ایجنٹوں بارے شکایات موصول ہونے پر فوری کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے ہمارا کام سموں کا اجراء کرنا نہیں خواتین کی رجسٹریشن کرنا ہے جو ہم پوری ایمانداری سے کر رہے ہیں۔







