ویمن یونیورسٹی: جعلی وی سی کی چال ناکام، کمشنر ملتان کا دوسرا سخت شوکاز، اصل جواب طلب

ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز، جعلی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو شو کاز نوٹس جاری ہونے کے بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے کمشنر ملتان کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش بے نقاب ہو گئی جس پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو کمشنر ملتان کی جانب سے دوسرا شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا اور کہا گیا کہ اصل سوالات کے جوابات دیئے جائیں۔ خواتین یونیورسٹی ملتان میں مبینہ غیر قانونی، غیر آئینی اور متنازعہ فیصلوں کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق عارضی وائس چانسلر/پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کمشنر ملتان ڈویژن (بطور چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان ) کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی و انتظامی سوالات کے جواب میں حقائق فراہم کرنے کے بجائے ایک بار پھر اصل معاملے سے دانستہ طور پر توجہ ہٹانے کی کوشش کی، جس پر کمشنر ملتان نے نہ صرف ان کے جواب کو مسترد کیا بلکہ دوبارہ سخت لہجے میں لیٹر جاری کرتے ہوئے واضح الفاظ میں ہدایت دی کہ جو پوچھا گیا ہے، اسی کا جواب دیا جائے۔ دستاویزات کے مطابق خواتین یونیورسٹی ملتان کے باقاعدہ و کنفرم ملازمین نے ایڈوانس انکریمنٹس کی بندش اور ریکوری کے خلاف پاکستان پوسٹ کے ذریعے ایک تحریری درخواست سنڈیکیٹ کے تمام ممبران کو ارسال کی۔ یہ اقدام وائس چانسلر کے آفس آرڈر نمبر WUM/VC/25-88/D مورخہ 14.11.2025 کے تحت کیا گیا تھا، جسے ملازمین نے غیر قانونی، غیر مجاز اور اختیارات سے تجاوز قرار دیا۔ اسی تناظر میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، ملتان کے ذریعے کمشنر ملتان ڈویژن کی ہدایت پر وائس چانسلر سے 10 دسمبر 2025 کو ایک تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی، جس میں خاص طور پر یہ وضاحت مانگی گئی کہ کیا ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو Women University Multan Act 2010 کی دفعہ 12(3) اور 12(3a) کے تحت ایسے مالی و پالیسی نوعیت کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل تھا؟ جبکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے واضح نوٹیفکیشنز موجود ہیں جن میں ایکٹنگ/پرو وائس چانسلرز کو طویل المدتی پالیسی یا مالی فیصلے کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو صرف روزمرہ امور دیکھنے کی اجازت دی گئی ہےنہ کہ بڑے مالی فیصلے کرنے کی۔ ذرائع کے مطابق اس واضح اور قانونی نوعیت کے سوال کے جواب میں وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے 12 دسمبر 2025 کو جو جواب بھجوایا گیا وہ کمشنر آفس کے لیے حیران کن تھا۔ اس جواب میں وائس چانسلر کے اختیارات کے قانونی جواز پر کوئی وضاحت دینے کے بجائے محض یہ بتایا گیا کہ متاثرہ ملازمین نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے معاملہ سنڈیکیٹ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ قانونی و انتظامی ماہرین کے مطابق یہ جواب سوال کا جواب نہیں بلکہ دانستہ گریز تھا، کیونکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرح کمشنر ملتان نے عدالت کے حکم کے بارے میں نہیں بلکہ اس بات پر وضاحت مانگی تھی کہ آیا ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو ایڈوانس انکریمنٹس بند کرنے اور ریکوری جیسے مالی فیصلے کرنے کا قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی اس مبینہ چالاکی اور گمراہ کن جواب پر کمشنر ملتان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے 22 دسمبر 2025 کو دوبارہ باضابطہ لیٹر جاری کر دیا۔ اس خط میں صاف لکھا گیا کہ وائس چانسلر/یونیورسٹی کی جانب سے بھیجا گیا جواب مطلوبہ رپورٹ نہیں۔ 10 دسمبر کے خط میں اٹھائے گئے نکات، خصوصاً اختیارات کے قانونی جواز پر کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ لہذا ایک بار پھر ہدایت کی جاتی ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشنز کی موجودگی میں وائس چانسلر کے اختیارات سے متعلق تفصیلی رپورٹ/وضاحت فراہم کی جائے۔ کمشنر ملتان نے اس رپورٹ کے لیے 24 دسمبر 2025 کی آخری تاریخ مقرر کی ہے تاکہ معاملے پر مزید کارروائی کی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نہ صرف یونیورسٹی کے اندر بلکہ صوبائی سطح کے اعلیٰ انتظامی فورمز کو بھی کاغذی کارروائی، مبہم جوابات اور غیر متعلقہ نکات میں الجھا کر وقت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق عدالت کے حکم کا حوالہ دے کر اصل سوال سے بچنا ایک دانستہ حکمتِ عملی ہے، تاکہ غیر قانونی فیصلوں کا احتساب مؤخر کیا جا سکے۔ یونیورسٹی ملازمین، اساتذہ اور شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ جب ایک پرو وائس چانسلر، جسے صرف روزمرہ امور کی اجازت ہے، مالی فیصلے کر کے ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات پر اثر انداز ہو اور پھر اس پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے اداروں کو گمراہ کرے تو یہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کے لیے خطرناک مثال ہے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے اقدامات کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کرائی جائے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشنز کی کھلی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے۔ خواتین یونیورسٹی ملتان کو ذاتی انا، غیر قانونی اختیارات اور گمراہ کن حربوں سے نجات دلائی جائے۔اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا جعلی وائس چانسلر اس بار بھی اصل سوالات سے فرار اختیار کرتی ہیں یا کمشنر ملتان کے سامنے حقائق رکھنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفیکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے گرینڈ گالا کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ سر پرستی سے غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز، جعلی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔

کمشنرملتان وچیئرمین تعلیمی بورڈکی جانب سے ڈاکٹرکلثوم پراچہ کوجاری دونوں شوکازنوٹسزاوروی سی کے جواب کاعکس

شیئر کریں

:مزید خبریں