لودھراں گرین سکیم میں تعینات کلرک غیر قانونی کالونیوں کی تعمیر و فروخت میں ملوث

لودھراں (نمائندہ خصوصی)ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گرین سکیم میں تعینات کلرک قیصر طویل عرصے سے مبینہ طور پر غیر قانونی رہائشی کالونیوں کی تعمیر اور فروخت میں ملوث ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ کلرک نے اپنی سرکاری حیثیت، اختیارات اور اثر و رسوخ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گرین اسکیم کے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کیا اور شہریوں سے بھاری رشوت وصول کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کلرک قیصر نے نائب قاصد سے کلرک کے عہدے پر رہتے ہوئے غیر قانونی طور پر پلاٹس کی الاٹمنٹ کی، جعلی فائلیں تیار کیں اور سرکاری دستاویزات میں تبدیلی کر کے من پسند افراد کو فائدہ پہنچایا۔ ان غیر قانونی اقدامات کے باعث سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا، جبکہ کئی اصل مالکان اپنی زمینوں اور جائز حقوق سے محروم ہو گئے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ کلرک قیصر سرکاری ریکارڈ دفتر میں رکھنے کے بجائے اپنے ذاتی لیپ ٹاپ میں محفوظ رکھتا رہا، جس کے ذریعے ریکارڈ میں من مانی ترامیم کی گئیں۔ مختلف افراد کے نام پر جعلی کاغذات تیار کروا کر زمینوں کی خرید و فروخت کی گئی، جبکہ اصل مالکان کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ذرائع کے مطابق گرین اسکیم کے نام پر بنائی گئی ان غیر قانونی کالونیوں میں نہ تو نکاسیٔ آب کا مناسب انتظام ہے، نہ ہی سڑکوں، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات میسر ہیں، اس کے باوجود شہریوں سے پلاٹس کے نام پر بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔ کئی متاثرہ شہریوں نے متعلقہ محکموں میں شکایات بھی درج کروائیں، تاہم بااثر عناصر کی مبینہ سرپرستی کے باعث تاحال کوئی ٹھوس اور مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سنگین معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار انکوائری نہ کی گئی تو بدعنوانی کا یہ سلسلہ مزید پھیلنے کا خدشہ ہے، جس سے نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچے گا بلکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔شہریوں، متاثرہ افراد اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر لودھراں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کلرک قیصر کو اس حساس سیٹ سے ہٹایا جائے، سرکاری ریکارڈ کی فرانزک جانچ کرائی جائے، غیر قانونی کالونیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور سرکاری زمینیں واگزار کرا کے یا تو سرکار کی تحویل میں لی جائیں یا اصل مالکان کو ان کا جائز حق دلایا جائے۔عوامی حلقوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ کرپشن میں ملوث دیگر سہولت کاروں اور افسران کا بھی تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کی بدعنوانی کا راستہ روکا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں