ملتان(وقائع نگار)پاکستان میں طبی غفلت، ناقص اور جعلی ادویات کی وجہ سے سالانہ 5 لاکھ افراد موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ مریضوں کی اموات میں 18-20 فیصد اضافہ ہوگیا۔پاکستان کے ہسپتالوں میں طبی غلطیوں، غفلت اور ادویات کے غلط استعمال کی وجہ سے ہر سال لاکھوں مریضوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، ملک بھر میں داخل ہونے والے مریضوں میں سے 18 سے 20 فیصد کی اموات طبی غلطیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔یہ اعدادوشمار نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ دنیا بھر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، جہاں اس طرح کی اموات کی شرح بہت کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات میں مریضوں کا بیماری کو آخری مرحلے تک پہنچانے کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کرنا، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی، سہولیات کی عدم دستیابی اور بعض اوقات لاپرواہی شامل ہے پاکستان میں ہر سال تقریباً 5 لاکھ افراد غلط اور جعلی ادویات کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں، جو ہسپتالوں میں ہونے والی اموات کا 3 فیصد حصہ ہے۔ ملک میں طبی غفلت کے کیسز کی دستاویزات کا فقدان ہے، اور بیشتر واقعات رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ڈاکٹروں کی تعداد آبادی کے مقابلے میں انتہائی کم ہے ہزاروں مریضوں پر صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ، پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں غیر تربیت یافتہ عملہ اور ناکافی سہولیات بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ایک حالیہ واقعے نے اس مسئلے کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ملتان کے ایک بڑے ٹرانسپورٹر کو ڈاکوؤں کی گولیوں سے زخمی ہونے پر ایک پرائیویٹ ہسپتال لایا گیا، جہاں عملے نے پولیس کیس کے خوف سے مریض کو داخل کرنے سے انکار کر دیا اور نشتر ہسپتال بھیجنے کا مشورہ دیا۔ نشتر ہسپتال پہنچنے پر آپریشن تھیٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انتظار کرنا پڑا، اور ایک جونیئر ڈاکٹر نے آپریشن کیا جبکہ سینئر پروفیسر سرجن اپنے پرائیویٹ کلینک میں مصروف تھے۔ رات کو بخار چڑھنے پر ایمرجنسی میں کوئی سینئر اینستھیزیالوجسٹ موجود نہ تھا، نتیجتاً مریض چار گھنٹے بعد انتقال کر گیا۔ اس واقعے نے سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی لاپرواہی اور سہولیات کی کمی کو واضح کر دیا ہے۔







