جامعات میں ریٹائرڈ افسران پھر مسلط، آر ایم یو میں 65 سالہ رجسٹرار، قانون میرٹ کو ٹیکا

ملتان ( سٹاف رپورٹر) ملک بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں ایک خطرناک اور تشویشناک رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں ریٹائرڈ افسران کو نہ صرف دوبارہ بھرتی کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں انتہائی اہم اور بااثر انتظامی عہدوں پر بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس رجحان نے نوجوان، اہل اور حاضر سروس افسران کے حقوق، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ایسا ہی ایک چونکا دینے والا معاملہ راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی (RMU) میں سامنے آیا ہےجہاں ڈاکٹر شہزاد احمد گزشتہ کئی برسوں سے بطور رجسٹرار خدمات سرانجام دے رہے ہیںحالانکہ وہ نہ صرف مقررہ مدت پوری کر چکے ہیں بلکہ وہ باقاعدہ طور پر ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈاکٹر شہزاد احمدجو کہ ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں بطور پرنسپل میڈیکل آفیسر (BS-20) خدمات انجام دے رہے تھے، 16 ستمبر 2020 کو اپنی مقررہ مدت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو چکے تھے۔ اس حوالے سے ان کی ریٹائرمنٹ کا باضابطہ کیس پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بھجوایا گیاجس کا واضح ثبوت سرکاری مراسلہ نمبرVC/RMU/HFH/3849-53 مورخہ 16 ستمبر 2020میں موجود ہے۔ اس مراسلے میں واضح طور پر سیکرٹری حکومت پنجاب کو آگاہ کیا گیا کہ ڈاکٹر شہزاد احمد کی ریٹائرمنٹ کا معاملہ متعلقہ محکمہ سے ہے اور اس پر ضروری کارروائی کی جائے۔ ڈاکٹر شہزاد احمد کی موجودہ عمر 65 سال، 3 ماہ اور 9 دن ہو چکی ہے، جو کہ کسی بھی سرکاری یونیورسٹی میں کلیدی انتظامی عہدے پر تعیناتی کے لیے نہایت حساس اور سوالیہ نشان ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب ہزاروں اہل افسران ترقی اور تعیناتی کے منتظر ہوں۔ راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق رجسٹرار کی تعیناتی سنڈیکیٹ وائس چانسلر کی سفارش پر کرے گی۔ رجسٹرار کی مدتِ ملازمت صرف تین سال ہو گی اور کوئی بھی فرد تین سال سے زائد عرصہ اس عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ تاہم دستیاب ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر شہزاد احمد 2017 سے مسلسل RMU میں خدمات انجام دے رہے ہیں جو کہ براہِ راست RMU ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ یونیورسٹی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ملازمین اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ افراد کو دوبارہ لا کر اداروں پر مسلط کرنا نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ ادارہ جاتی ترقی، میرٹ اور گورننس کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی درخواست باقاعدہ طور پر متعلقہ محکمے کو بھجوائی جا چکی تھی تو پھر کس اختیار اور کس قانون کے تحت ڈاکٹر شہزاد احمد کو آج تک اس اہم عہدے پر برقرار رکھا گیا؟ تعلیمی و سول سوسائٹی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن اور اینٹی کرپشن اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ RMU ایکٹ کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔ ریٹائرڈ افسران کی غیر قانونی تعیناتیوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ یہ معاملہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ، قانون کی عملداری اور نوجوان نسل کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے جس پر خاموشی اب خود ایک سوال بن چکی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں