ریلوے ملتان ڈویژن: سیلاب کے بعد ٹریک بحالی ٹینڈر متنازع، ڈی ای این ون کی دو نمبری

بہاولپور (افتخار عارف سے) ریلوے ملتان ڈویژن میں سیلاب کے بعد تباہ حال ریلوے ٹریک کی بحالی کے لیے مٹی ٹینڈر میں ڈی ای این ون ریحان صابر اور بدنامِ زمانہ کمپنی کا گٹھ جوڑ بے نقاب، جہاں مبینہ طور پر ایک بدنام ٹھیکیدار کو نوازنے کے لیے ٹو انویلپ سسٹم ہائی جیک کیا گیا وہیں پر ناقص مٹی، سخت شرائط اور متعلقہ افسران کی ملی بھگت ریلوے ٹریک کے لیے زہرِ قاتل کے مترادف قرار دی جا رہی ہے،جس پر شہری نے کارروائی کے لئے وزیر اعظم پاکستان سمیت ریلوے کے اعلیٰ افسران اور ایف آئی اے میں درخواستیں ارسال کر دی ہیں جبکہ ریحان صابر ڈی ای این ون کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریلوے ملتان ڈویژن میں امپیکٹمنٹ مٹی کے دو ٹینڈرز میں سنگین بے ضابطگیوں اور فراڈ کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جو 27 ستمبر 2025 کو ٹو انویلپ سسٹم (ٹیکنیکل و فنانشل) کے تحت کھولے گئے، تاہم ٹیکنیکل بِڈ جان بوجھ کر اس انداز میں تیار کی گئی کہ پاکستان ریلوے میں بدنامِ زمانہ ٹھیکے دار ال شریف کنسٹرکشن کمپنی کو فائدہ پہنچایا جا سکے، جس کے لیے یہ غیر قانونی شرط شامل کی گئی کہ ٹینڈر کی جتنی مالیت ہو اتنی ہی رقم کمپنی کے اکاؤنٹ میں موجود ہو، تاکہ دیگر ٹھیکے دار مقابلے سے باہر ہو جائیں، یہی وجہ ہے کہ تمام دیگر ٹھیکے دار ڈس کوالیفائی کر دیے گئے اور مذکورہ کمپنی کو واحد اہل قرار دیا گیا، ذرائع کے مطابق ایک کام ایف ڈبلیو او کو دیا گیا جسے مقررہ مدت اور معیار کے مطابق مکمل کیا گیا جبکہ دوسرا کام اسی متنازعہ کمپنی کو 25 دن کی معیاد کے ساتھ دیا گیا مگر دو ماہ گزرنے کے باوجود کام مکمل نہ ہو سکا، مزید انکشاف ہوا ہے کہ ال شریف کنسٹرکشن کمپنی نے محکمہ ریلوے کے بعض افسران سے ملی بھگت کر کے ٹینڈر کے منظور شدہ کراس سیکشن میں تبدیلیاں کیں اور مٹی کی مقدار میں غیر قانونی اضافہ کر دیا، جبکہ موقع پر کیے گئے کام میں 100 فیصد مٹی کے بجائے نیچے مکمل طور پر ریَت/گَسّو ڈال کر اوپر مٹی کی تہہ بچھائی گئی جو ریلوے ٹریک کے لیے زہرِ قاتل ہے اور بارشوں کی صورت میں ٹریک کے بیٹھنے سے جانی و مالی نقصان کا شدید خدشہ ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی کمپنی نے ماضی میں روجھان لائن پر بھی اسی طرز کا ناقص کام کیا تھا جہاں بارشوں کے باعث ٹریک کے نیچے خلا پیدا ہو چکا ہے، عجیب اتفاق یہ ہے کہ وہاں بھی کمپنی اور افسران وہی تھے، جس سے ایک منظم مافیا کے سرگرم ہونے کے شواہد ملتے ہیں، جبکہ ان تمام معاملات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور اگر ایس جی ایس لیبارٹری سے غیر جانبدار ٹیسٹنگ اور شفاف انکوائری کروائی جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے۔اس سلسلے میں جب تمام تر تفصیلات کا موقف جاننے کے لیے ریحان صابر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا سائٹ اوپن ہے جس نے معائنہ کرنا ہے کر لے ٹریک چالو ہو گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں