ملتان (کرائم رپورٹر)سی سی ڈی،سیف سٹی کیمرے ناکام ہوکررہ گئے۔ملتان میں جرائم کی شدت خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ منظم چور گینگز، ڈاکو، نوسرباز اور اخلاقی جرائم میں ملوث عناصر شہر کے مختلف علاقوں میں بے خوف ہو کر وارداتیں کر رہے ہیں جبکہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے ہولناک واقعات نے شہریوں کو شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی درجنوں سنگین وارداتوں پر پولیس نے مقدمات تو درج کر لئے تاہم کئی بڑے کیسز میں ملزمان کی عدم گرفتاری سوالیہ نشان بن چکی ہے۔خانیوال روڈ پر تھانہ قادر پور راں اور سیتل ماڑی کے باؤنڈری ایریا پل رانگو سے پل سہو تک پولیس گشت کی مبینہ کمی کے باعث منظم چور گینگ سرگرم ہو چکا ہے، جو خانیوال سے ملتان آنے والی چلتی کارگو گاڑیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تازہ واردات میں گلزار احمد کی گاڑی سے 14 کارٹن، مالیت 2 لاکھ 10 ہزار روپے، چوری کر لیے گئے، جبکہ ایک روز قبل اسی شاہراہ پر نجی کوریئر کمپنی کی گاڑی بھی لوٹ لی گئی تھی۔ شہریوں نے خانیوال روڈ کے خطرناک ایریا میں مؤثر پولیس گشت کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب تھانہ گلگشت کےعلاقےمیں ایک نہایت لرزہ خیز اور حساس مقدمہ درج کیا گیا، جس میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے مطابق ایک موٹر سائیکل سوار شخص کو اپنی ہی قریبی خونی رشتہ دار نابالغ بچی کے ساتھ دورانِ سفر نازیبا حرکات کرتے دیکھا گیا۔ اے ایس آئی محمد اعظم کی مدعیت میں اعلیٰ حکام کے حکم پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم واقعے کے کئی دن گزرنے کے باوجود ملزم قانون کی گرفت میں نہ آ سکا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھجوانے پر غور جاری ہے۔شہر میں ڈکیتی اور چوری کی بڑی وارداتوں میں تھانہ قطب پور کے علاقے میں کرولا کار سوار مسلح ڈاکوؤں نے محمد انجم کی الیکٹرانکس دکان کے تالے توڑ کر ہمسایہ کو یرغمال بنایا اور 11 لاکھ 25 ہزار روپے مالیت کا قیمتی سامان لوٹ لیا۔ واردات کے دوران قریبی کالونی کا سیکیورٹی گارڈ مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنا رہا۔ تھانہ سیتل ماڑی کے علاقے وہاڑی چوک پر مسجد میں نماز کے لیے جانے والے شہری کی ٹویوٹا کرولا کار چوری ہو گئی جبکہ اسی علاقے میں نوسربازوں نے ایک شہری کو دھوکہ دے کر اے ٹی ایم سے 3 لاکھ 10 ہزار روپے نکلوا لیے۔مالیاتی جرائم کے ایک بڑے کیس میں تھانہ بی زیڈ پولیس نے فہد، اسد اور احسن کے خلاف سجاد نامی شہری سے 2 کروڑ 55 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ تھانہ بستی ملوک میں بینک سے رقم نکلوا کر جانے والے شہری صابر کو مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر 50 ہزار روپے سے محروم کر دیا۔اخلاقی جرائم کے دیگر افسوسناک واقعات میں سٹی جلال پور سے ایک نو عمر لڑکے کے اغوا، جبکہ نو عمر لڑکی (ش) سے زیادتی کے الزام میں سجاد، فہد اور سفیان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ صدر جلال پور میں خاتون اریبہ کے اغوا اور کمسن لڑکے مدنی سے بدفعلی کی کوشش کے مقدمات بھی پولیس ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔سٹریٹ کرائم کی صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ نشتر ہسپتال کے اندر اور باہر مریضوں کے لواحقین کے موبائل فون چوری ہو گئے، جبکہ وہاڑی چوک میٹرو اسٹیشن، کچہری چوک، الشفاء کلینک اور ڈی ایچ اے کے علاقوں میں متعدد شہری موٹر سائیکلوں، موبائل فونز اور نقدی سے محروم ہو گئے۔ تھانہ الپہ کے علاقے میں امام مسجد کے گھر سے سامان چوری ہوا، جبکہ بستی ملوک میں 5 لاکھ روپے مالیت کے مویشی چوری ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ادھر ٹریفک پولیس نے کارروائیوں کے دوران ٹریفک میں خلل ڈالنے پر 7 ریڑھی بانوں کے خلاف مقدمات درج کروائے، جبکہ بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانے پر ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے جرائم، خاص طور پر بچوں اور خواتین کے خلاف واقعات، پولیس کی مؤثر حکمتِ عملی اور فوری کریک ڈاؤن کے متقاضی ہیں، بصورتِ دیگر ملتان میں امن و امان کی صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔







