خواتین یونیورسٹی ملتان: فیصلے کی گھڑی آگئی، ایچ ای ڈی کا کلثوم پراچہ کو شوکاز، ہٹانے پر غور

ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی کوششیں بار آور ثابت ہوئیں اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے روزنامہ قوم میں لگنے والی خبروں پر نوٹس لیتے ہوئے خواتین یونیورسٹی ملتان میں بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ملازمین کے مالی حقوق کی پامالی کا ایک اور شرمناک سکینڈل منظر عام پر آنے پر قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا اور ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے خواتین یونیورسٹی ملتان میں غیر قانونی ، ناجائز، جعلی ، غیر اخلاقی، کرپٹ ترین اور ظالم ترین پرو وائس چانسلر و عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے فرعونیت کا شدید مظاہرہ کرتے ہوئے ایڈوانس انکریمنٹس کی غیر قانونی کٹوتیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو فوری شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور تین دن میں تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ایڈوانسڈ اور پری میچور انکریمنٹس کی کٹوتیوں پر کی گئی جسے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے قانون، یونیورسٹی ایکٹ اور گورنر/چانسلر کے واضح احکامات کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مراسلے میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ اس سے قبل بھی 28 جون 2024 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت تمام سرکاری جامعات کو سختی سے ہدایت دی گئی تھی کہ پرو یا ایکٹنگ وائس چانسلرز کوئی طویل المدتی پالیسی یا مالی فیصلے نہیں کر سکتے۔ وائس چانسلر کی مستقل تعیناتی تک سنڈیکیٹ اور سینیٹ کے اجلاس منعقد نہیں کیے جا سکتے۔ سلیکشن بورڈز کے اجلاس اور ان کی سفارشات کی منظوری مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اس کے باوجود خواتین یونیورسٹی ملتان میں ایڈوانس انکریمنٹس جیسے حساس مالی معاملات میں یکطرفہ اور غیر قانونی فیصلے کئے گئے جو نہ صرف ملازمین کے معاشی قتل کے مترادف ہے بلکہ ریاستی احکامات کی کھلی توہین بھی ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو سخت ترین شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ خواتین یونیورسٹی ملتان ایکٹ 2010 کے سیکشن 12(3) اور 12(3a) کے تحت یہ اختیارات استعمال کرنے کی آخر کس قانونی اتھارٹی کی بنیاد پر مجاز تھیں؟ محکمہ تعلیم کے مطابق پرو وائس چانسلر کا یہ اقدام قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز اور انتظامی بدنیتی کا واضح ثبوت ہے جس سے یونیورسٹی میں افراتفری، عدم اعتماد اور ملازمین میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔ محکمہ نے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو تین دن کے اندر اندر مکمل رپورٹ اور وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر تسلی بخش جواب کی صورت میں سخت تادیبی کارروائی حتیٰ کہ عہدے سے ہٹانے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے اپنے کماؤ پوت ایڈمن آفیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالہ، سیلاب فنڈز اور کانفرنسز کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ سر پرستی سے غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز، جعلی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔ مبینہ طور پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی QUO WARRANTO کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں