کوٹ ادو، درخت کٹے، خواب ٹوٹے، یادیں بکھریں، ہر گھر کی کہانی رخصت، تاریخی کینال کالونی خالی کرنے کا حکم

کوٹ ادو (قوم خصوصی رپورٹ)سو سالہ قدیمی کینال کالونی کاغذ کے اک ٹکڑے کی مار نکلی۔ تاریخی کالونی مسمار کرنے کے احکامات موصول ،مکان خالی کرنے کا حکم ملتے ہی ممتاز نامی مکین جان کی بازی ہار گیا۔کینال کالونی میں ملازمین اپنی کمائی سے بنائے کمرے مسمار کرنے لگے ۔نقل مکانی سے تقسیم کے وقت کے مناظر کی یاد تازہ تفصیل کے مطابق انگریز دور کی یاد گار سو سالہ قدیمی کالونی کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے۔ریونیو بورڈ نے کینال آفس اور کینال کالونی خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔احکامات موصول ہوتے ہی کینال کالونی کی فضا میں افسردگی کا راج ہے 2010 کے سیلاب کے بعد سے گورنمنٹ نے فنڈز دینا بند کر دئیے تھے جس کی وجہ سے مکینوں نے اپنی تنخواہوں سے مرمت کرائی تھی۔مکین اپنے کمرے خود توڑنے لگے۔ احکامات موصول ہوتے ہی ممتاز نامی مکین پریشانی سے دل پکڑ کر بیٹھا ۔ہاسپٹل پہنچے تو پتا چلا ہارٹ فیل ہوا ہے اور فوت ہو چکے ہیں۔گزشتہ روز اسی دفتر میں اس کی نماز جنازہ پڑھائی گئی جس میں زندگی بھر ممتاز نے ڈیوٹی ادا کی۔احکامات موصول ہونے کے بعد افسران پریشان ہیں۔ دفتر دور جانے سےشہری پریشان ہیں۔نقل مکانی سے تقسیم کے وقت کے مناظر کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔معصوم بچے حسرت بھری نظروں سے پھٹہ رکشوں پہ سامان جاتا دیکھتے ہیں تو بڑے تفکر میں غرقاب نظر آتے ہیں۔بڑوں کی کہانی یوں ہے کہ ممتاز نامی ڈاکیا جس نے محکمہ انہار کو اپنی زندگی دی آج اسی محکمہ کی کالونی چھوڑنے سے پہلے یہ جہان چھوڑ گیا۔تار گھر کا درجہ چہارم کا ملازم نصیر شاہ اور اس کا تار گھر کا ملازم بیٹا مدثر شاہ جس نے چار ماہ قبل مکان کی جیب سے مرمت کرائی تھی آج وہ مزدور لگا کر دیواریں گرا کر وہی اینٹیں اونے پونے داموں فروخت کرنے پہ مجبور ہے کہ اس کے پاس کرائے کے مکان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔علی نامی ڈرائیور جس کا والد بھائی بھانجے ہجرت کر کے اپر پنجاب سے محکمہ انہار کے لیے کوٹ ادو آئے اور یہیں کے ہو رہے جو آج بھی اسی محکمہ میں خدمات سر انجام دے رہا ہے جس کے والد کی دو شادیاں ہیں وہ دو مکان کرائے پہ لینے پہ مجبور ہے۔ نارووال سے آنے والے چوہدری فرقان لوگ ہوں یا پھر کوئٹہ سے آنے والے ہزارہ خاندان کے حالیہ ملازم مستجاب شاہ، سب اس کاغذ کے اک ٹکڑے آگے بے بس ہیں۔یونین عہدیدار ظفر گورمانی جس نے کوٹ ادو کے پھیپھڑے قرار دیے جانے والی کینال کالونی میں درخت لگائے۔ گھر کی بیک سائیڈ پہ کسی سے کام کر کے گھر کی موٹر سے پھل دار درخت لگا کر اک جنگل کھڑا کیا جو آج بھی درخت کاٹنے کا روادار نہیں اس نے مکان تو بنوائے ہوئے ہیں لیکن اولاد کی طرح پیارے درخت اور باغیچے کا دکھ ہے۔اس طرح کینال کالونی کے اک اک بوسیدہ گھر میں کئی کئی جذباتی کہانیاں ہیں۔ کسی کی شادی یہیں ہوئی، کسی کے بچے نے پہلا قدم اسی آنگن میں اٹھایا۔پاکستان بھر سے آنے والے ملازمین اک دوسرے کا سہارا ہیں۔ ان کے بچھڑنے کا دکھ کینال کالونی میں واقع دو سرکاری سکولوں کے چھوٹنے کا دکھ یا پھر آئندہ زندگی میں اس گھر کے خواب آنے کا دکھ ،کینال کالونی کے مکین دکھی ہیں۔مکینوں کا کہنا ہے کہ فیز ون کا حصہ تو لے لیا ۔دفاتر اور رہائشی علاقہ چھوڑ دیا جائے۔مزید پیش قدمی نہ کی جائےلیکن ان کی کون سنتا ہے، سی ایم ، سیکرٹری اریگیشن یا پھر ریونیو بورڈ۔نئے آنے والے ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ ان کی کسی سے رنجش نہیں۔ حکومت جو جگہ مختص کرے گی وہ وہیں ڈیرہ لگا لیں گے۔مکینوں کی برسراقتدار حاکموں سے آخری التجا یہی ہے ’’ اب بھی آجاؤ کہ کچھ نہیں بگڑا اب بھی ہم انتظار کرتے ہیں‘‘۔

شیئر کریں

:مزید خبریں