خانیوال میں اتائیت کا راج ،ان پڑھ ڈاکٹرز کا شہریوں کی صحت سے کھلواڑ

خانیوال(یونس آزاد سے)خانیوال میں اتائیوں کا مبینہ راج ،ضلع و تحصیل سب متاثر، شہری زندگیوں پر بڑھتا ہوا خطرہ، انتظامیہ اور محکمہ صحت خاموش تماشائی، ضلع خانیوال جو انتظامی طور پر چار تحصیلوں یعنی خانیوال جہانیاں کبیروالا اور میاں چنوں پر مشتمل ہے مبینہ طور پر اتائیوں کے نیٹ ورک کی لپیٹ میں ہے دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک مبینہ جعلی معالج غیر مستند کلینکس اور غیر قانونی لیبارٹریاں دھڑلے سے کام کر رہی ہیں جبکہ محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تحصیل خانیوال میں مبینہ طور پر گلی محلوں مضافاتی بستیوں اور کچی آبادیوں میں عطائی ڈاکٹروں نے کلینک قائم کر رکھے ہیں بخار یرقان ٹائیفائیڈ شوگر بلڈ پریشر اور حتیٰ کہ زچگی جیسے معاملات میں بھی غیر تربیت یافتہ افراد علاج کر رہے ہیں شہریوں کے مطابق مبینہ طور پر غلط انجکشن زائد المیعاد ادویات اور غیر سائنسی طریقہ علاج کے باعث متعدد مریضوں کی حالت بگڑنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں مگر کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں تحصیل جہانیاں میں صورتحال مزید مبینہ طور پر تشویشناک ہے جہاں دیہی علاقوں میں اتائی سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کا غیر اعلانیہ متبادل بنے ہوئے ہیں لاعلمی غربت اور سرکاری سہولیات کی کمی کے باعث شہری مبینہ طور پر ان اتائیوں کے رحم و کرم پر ہیں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض اتائی سرکاری ہسپتالوں کے آس پاس بیٹھ کر مریضوں کو گمراہ کر کے اپنے کلینکس کی طرف منتقل کرتے ہیں جو صحت قوانین اور اخلاقیات کی مبینہ طور پر خلاف ورزی ہے تحصیل کبیر والا اور میاں چنوں میں بھی اتائیت کا مبینہ طور پر منظم نیٹ ورک سرگرم ہے جعلی ایم بی بی ایس اور اسپیشلسٹ کے بورڈ آویزاں کیے گئے ہیں جبکہ جھولے دار انجکشنوں اور خطرناک ادویات کا بے دریغ استعمال مبینہ طور پر ہو رہا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شکایات کے باوجود کارروائیاں وقتی نمائشی اور مخصوص علاقوں تک محدود رہتی ہیں ماہرین صحت مبینہ طور پر خبردار کر رہے ہیں کہ اتائیوں کی موجودگی نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی بڑا سبب بن رہی ہے شہریوں سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری محکمہ صحت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کی چاروں تحصیلوں میں بلا امتیاز مستقل اور سخت کریک ڈاؤن کیا جائے اتائیوں کو جیل بھیجا جائے اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔جب اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشن خانیوال سلمان خالد سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ پرسوں تفصیلی وضاحت فراہم کریں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں