برطانیہ میں نامعلوم شخص کے حملے کے بعد سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کا بیان سامنے آیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر متعدد زخم آئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی زخمی چہرے کی تصویر جعلی ہے اور اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا۔ اصل واقعہ اس تصویر سے مختلف ہے اور اس حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حملہ آور بظاہر کنسٹرکشن ورکر یا کوڑا اٹھانے والا محسوس ہوا، جس نے پہلے ان کی شناخت کی اور پھر اچانک حملہ کر دیا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ بزدلانہ کارروائیاں انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتیں۔
شہزاد اکبر نے پولیس کی جانب سے ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کی یقین دہانی پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ قانون پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انگلینڈ کو ہر شہری کے لیے محفوظ بنایا جائے، چاہے اختلافات رکھنے والے ہی کیوں نہ ہوں۔
واضح رہے کہ 2023ء میں بھی لندن میں شہزاد اکبر پر مبینہ تیزاب حملہ ہوا تھا۔







