اسلام آباد: متحدہ عرب امارات کے صدر، شیخ محمد بن زاید النہیان، آج پاکستان کے دورے پر پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال نورخان ایئربیس پر شاندار انداز میں کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایئربیس پر مہمانِ خصوصی کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ان کے اعزاز میں سلامی دی۔
وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے اراکین بھی موجود تھے جن میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال، عطا تارڑ اور دیگر شامل تھے۔ وزیراعظم نے مہمانِ خصوصی کے تعارف کے موقع پر وزرا سے ملاقات بھی کرائی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور دیرینہ برادرانہ روابط کو مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کا یہ دورہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعلقات اور اقتصادی، دفاعی و تجارتی تعاون کو نئی جہت فراہم کرے گا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ صدر محمد بن زاید النہیان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آئے گا، جس میں وزرا اور سینئر حکام شامل ہیں۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطے کی سلامتی اور عالمی سطح کے باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر کے دورے کا خیر مقدم کیا اور اہل پنجاب کی جانب سے انہیں خوش آمدید کہا۔ مریم نواز نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات لازوال اور بے مثال ہیں، اور صدر محمد بن زاید النہیان کا پہلا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ اماراتی صدر کے دورے سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ یہ پاکستان کے عالمی سطح پر اہم کردار کو بھی اجاگر کرے گا۔ انہوں نے عوام اور تمام حکومتی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس تاریخی دورے کو اپنے احترام اور محبت کے ذریعے یادگار بنائیں۔
اس اہم موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات بھی موجود رہیں گی، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور شہر میں عارضی تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا تاکہ معزز مہمان کے دورے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
صدر محمد بن زاید النہیان کے دورے کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ایک نئی جہت اور مضبوط سفارتی ربط کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں تجارتی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔







