ڈی آر سی تنازع، حکومتی جلدبازی، ہائیکورٹ مشاورت کے بغیر ٹریبونلز، ریٹائرڈ ججز تقرر غیرقانونی

ملتان (سٹاف رپورٹر) حکومت پنجاب کی طرف سے صوبہ بھر میں جائیدادوں کے جھگڑوں کے حوالے سےضلعی سطح پر بنائی جانے والی ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی (ڈی آر سی) کے قیام اور طریقہ کار کے حوالے سے ہائی کورٹ اور حکومت پنجاب کے مابین پیدا ہونے والی اختلافی کیفیت میں حکومت کی طرف سے جلد بازی میں کئے جانے والا فیصلہ باعث بنا۔ سیکرٹری بورڈ آف ریونیو نے صوبہ بھر میں ٹریبونل قائم کرتے ہوئے ریٹائرڈ سیشن جج حضرات کی تقرری کر ڈالی جو کہ سراسر غیر قانون احکامات ہیں کیونکہ قانون کے تحت ججز خواہ وہ ریٹائرڈ ہوں یا حاضر سروس، ان کی نامزدگی اور تعیناتی ہائی کورٹ کی مشاورت سے کی جا سکتی ہے اور اس سلسلے میں احکامات صوبائی محکمہ قانون ہائی کورٹ کی مشاورت سے جاری کرتا ہے جبکہ سیکرٹری بورڈ آف ریونیو یا بورڈ آف ریونیو سمیت کسی بھی ادارے یا محکمے کو ججز کی تعیناتی کا سرے سے کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے معروف قانون دان شیخ محمد فہیم نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ اس قسم کی تمام تعیناتیوں اور تقرریوں کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت اور سفارش لازمی ہوتی ہے اور اگر چیف جسٹس پنجاب ہائی کورٹ جسٹس محترمہ عالیہ نیلم صاحبہ سے قواعد و ضوابط کے مطابق مشاورت کا امر مکمل ہوتا تو وہ کسی طور پر بھی حکم امتناعی جاری نہ کرتیں کیونکہ ضلعی سطح کے ٹریبونلز کے لیے یہ تقرریاں سیکرٹری بورڈ آف ریونیو کے احکامات سے ہوئی ہیں لہٰذاسراسر غیر قانونی ہیں۔ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ حاضر سروس ججز کی نسبت ریٹائرڈ ججز سے مرضی کے فیصلے کروانا اور فیصلوں پر اثر انداز ہونا نسبتاً آسان ہوتا ہے اس لئے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان پر اس طرح کی پابندی نہیں رہتی اور وہ پرکشش تنخواہ اور مراعات کے لیے سیاسی اور انتظامی دباؤ کو قبول کر لیتے ہیں جبکہ حاضر سروس ججز کو مینج کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک اور بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز کے پاس ججز کی طرح سے عدالتی اختیارات نہیں ہوتے۔ یہاں یہ امر بھی قابل اصلاح ہے کہ ٹریبونل کے سامنے متاثرہ فریق خود پیش ہوں گے انہیں اپنے ساتھ کوئی بھی وکیل لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں جو لوگ ان پڑھ ہیں یا جو خواتین ان معاملات سے آگاہ نہیں اور پراپرٹی کی ملکیت رکھتی ہیںوہ اپنا مدعا ٹریبونل کے سامنے کیسے پیش کر سکیں گے۔ روزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شیخ محمد فہیم نے بتایا کہ ضلعی مصالتی کمیٹی برائے پراپرٹیز جس کا سربراہ ڈپٹی کمشنر، ممبران میں ضلعی پولیس سربراہ سمیت دیگر اراکین ہوں گے کی ذمہ داری تو یہ ہے کہ وہ دونوں فریقین کو بلائیں اور ان میں مصالحت کروائیں اور اگر مصالحت نہ ہو تو یہ معاملہ ٹریبونل کو بھیج دیں۔ اراضی کے معاملات کا جہاں تک تعلق ہے، ایسے معاملات کو خراب کرنے الجھانے اور جھگڑے کا باعث بنانے میں مرکزی کردار تو ضلعی انتظامیہ کے انتہائی بنیادی یونٹ پٹوار خانے کا ہوتا ہے اور پٹواری کا فیصلہ ڈی سی تک جاتا ہے۔ اس طریقے سے یہاں تو وہ غلط فیصلہ جو کہ پٹواری کا کیا ہوا ہے اور جسے دیگر ضلعی متعلقہ افسران کی طرف سے منظوری بھی حاصل ہو چکی ہوتی ہے ایسے فیصلے ان کمیٹیوں میں کیوں کر میرٹ پر ہو سکیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں