بہاول پور(قوم نیوز)وردی کے غرور میں مبتلا ٹریفک وارڈن کی مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر معمولی اثاثہ جات کی کہانی نے پولیس کے اندرونی احتسابی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکار نے دورانِ ملازمت کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنائیں، اپنے خلاف ہونے والی متعدد انکوائریز مبینہ طور پر اثر و رسوخ کے ذریعے رکوا دیں، جبکہ خراب شہرت کے باعث اس پر فیلڈ ڈیوٹی سمیت اہم تعیناتیوں پر چھ ماہ کی پابندی بھی عائد ہو چکی ہے، تاہم اس کے باوجود اس کے خلاف شکایات کا سلسلہ جاری ہے۔ٹریفک وارڈن مہر اصغر کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔عوامی حلقوں نے سوال اٹھایاکہ ایک معمولی رکشہ چلانے والا شخص کروڑ پتی کیسے بن گیا ؟بڑی بڑی گاڑیاں، کوٹھیاں اور دکانیں کہاں سے حاصل کیں۔ یہ کہانی ایک ٹریفک وارڈن مہر اصغر کی ہے جس پر متعدد بار کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر معطلی و کارروائی ہوچکی ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے ایک صحافی کو روکا اور اسے اس بنیاد پر حوالات دیدیا کہ اس نے اس کی کرپشن پر خبریں لگائی تھیں ۔یہی نہیں بلکہ اسکی فیملی کوبھی ہراساں کیا اور ایک ایسے شخص پر بھی ایف ا ٓئی آر دی جو کئی دنوں سے گھر میں بیمار پڑا ہے اور آڈیو میں واضح کہہ رہا ہے کہ میں بدلہ لے رہا ہوں۔ لودھراں کے اس پولیس آفیسرپر غیر قانونی GATWAYکا کام کرنے پر کچھ عرصہ عرصہ قبل ایف آئی اےریڈ کر چکی ہے یہی نہیں مختلف تھانوں (تھانہ سٹی لودھراں، تھانہ صدر لودھراں)میں ٹرکوں سے سامان اتارنے پر اس کے والد اور بھائیوں پرپرچہ درج ہے۔فرنچائز کے ذریعے غیر قانونی سمیں فروخت کرنے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرا م کے ذریعہ لاکھوں روپے کا مکروہ دھندہ میں ملوث ہے ۔ذرائع کے مطابق وارڈن بااثراتنا ہے کہ اپنے خلاف ہونے والی تمام انکوائریز بند کرادیتا ہے یا اپنے حق میں کرالیتا ہے۔سال 2017 میں لودھراں لائسنس برانچ میں تعیناتی کے دوران کروڑوں روپے کی کرپشن کی ۔قومی ہاکی کھلاڑی فاخرہ تبسم کو شادی کا جھانسہ دیکر بلیک میلنگ کر کے قیمتی زیورات، گاڑی وغیر ہ ہتھیا چکا ہے جس کا مقدمہ نمبر 505/17 تھانہ سٹی لودھراں میں درج ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک خاتون کوہراساں کرنے کی کوشش کی جس نے اس پر گاڑی چڑھا دی اور اس نے اپنے آپ کو جعلی غازی لکھوانا شروع کر دیا ۔اس کے علاوہ مختلف خواتین کانسٹیبلز کو اپنے جا ل میں شادی کا جھانسہ دیکر پھنسایا ہوا ہے اور بڑی بڑی گاڑیاں، پیسہ ظاہرکرتا ہے۔وارڈن مبینہ طورپر نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کو بھاری رقم دیکر اپنے حق میں پوسٹیں لگوانے اور کرپٹ لوگوں سے روابط کرانے کا ماہر ہے۔عوامی حلقوں نےمطالبہ کیاہےکہ تحقیقاتی ادار ے انکوائری کریں کہ ایک ٹریفک وارڈ ن اتنا بااثر کیوں ہے اور اس کے پاس کروڑو ں روپے کے اثاثے کہاں سے آئے اور اسکے خلاف آج تک کوئی کارروائی یا تحقیقات کیوں نہ ہوسکی۔ اسکے خلاف خراب شہرت، سماج دشمن
عناصر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے 6 ماہ تک فیلڈ یا اہم مدات میں تعیناتی نہ کرنے پر 2024 میں آرڈ ر جاری ہوچکا ہے اورمعطل ہوچکا ہے۔دوسری جانب ٹریفک وارڈن محمداصغرنے شہری ملک شفیق ارائیں کیخلاف تھانہ کوتوالی بہاول پورمیں ایف آئی آر درج کرائی کہ تیزرفتاری وغفلت سے گاڑی چلانےپرروکنےپرانہوںنے دھمکیاں دیں۔مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے۔
قبل ازیں شہری نے ڈی آئی جی کوٹریفک وارڈن کیخلا ف درخواست دیدی۔درخواست کے متن کے مطابق
بخدمت جناب DIG صاحب بہاولپور
درخواست برائے کئے جانے قانونی و تحکمانہ کارروائی برخلاف مہر اصغر SI حال تعینات ٹریفک پولیس بہاولپور و دو کس نا معلوم الاسم کانسٹیبلان ٹریفک پولیس
جناب عالی :۔
گزارش ہے کہ سائل خان کالونی بہاولپور کا رہائشی ہے۔ پر امن شہری
ہے۔ مورخہ 2025-12-04 بوقت تقریباً 40 : 2 بجے دن کا وقوعہ ہے کہ سائل کھوکھا مارکیٹ کی طرف جا رہا تھا جو نہی سائل ٹریفک پولیس کے دفتر کے سامنے گلی میں پہنچا تو اتنے میں ایک نامعلوم الاسم پولیس کا نسٹیبل جس کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتا ہوں ۔ پیچھے سے بھاگتا ہوا آیا اور پیچھے سے موٹر سائیکل کو پکڑ کر روک لیا اور چابی نکال لی ۔ سائل بمشکل گرتے گرتے بچا۔ جب سائل نے کہا کہ یہ کیا طریقہ ہے تو الزام علیہ کانسٹیبل نے سائل کو تھپڑ مار دیا اور گریبان سے پکڑ کر گالی گلوچ کرتے ہوئے سائل کو موٹر سائیکل سے نیچے اتارا جس سے سائل کے گریبان کے بٹن ٹوٹ گئے اور سائل کا کوٹ پھٹ گیا ۔ اتنے میں بہت سے لوگ اکٹھےہو گئے اور ایک کانسٹیبل جس کا نام کا وش تھا بھی آگیا، جس نے عوام میں سے ایک شخص جس نے موقع کی ویڈیو بنائی تھی کو پکڑ کر ویڈیو ڈیلیٹ کروائی اور سائل سے کہا کہ قصور ہمارے بندے کا ہے۔ اس نے غلط کیا ہے اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا آپ ہمارے آفیسر کے پاس آئیں اور اس کی شکایت کریں ۔ یہ تمام مناظر احقائق CC TV کیمرہ جات جو کہ چوک پر نصب ہیں کے ذریعے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب سائل الزام علیہان کے آفیسر مہر اصغر SI ٹریفک پولیس کے پاس گیا تو اس نے تمام واقعات سننے کے بعد کہا کہ تمہیں پتا ہے کہ یہ حکومت فوجی حکومت ہے اور دو نون لیگ کو ووٹ ۔ اب جیسے تیسے کر کے مریم نواز نے ملک کا قرضہ تو اتارنا ہے۔ اب FIR بھی درج ہو گی اور چالان بھی ادا کرنا ہو گا ۔ سائل کی منت سماجت پرایف آئی آر درج نہ کرنے کی بابت 6ہزارروپےروپے بطور رشوت اور 4ہزارروپے کا چالان ادا کر کے سائل نے اپنی جان چھڑائی۔ جناب عالی الزام علیہان نےنہ صرف سائل کو مار پیٹ کر کے گالی گلوچ کر کے6ہزارروپے بطور رشوت لے کر زیادتی کی ہے بلکہ پاک فوج اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف بھی غلط الفاظ استعمال کر کے زیادتی کی ہے۔ درخواست پیش کرتا ہوں الزام علیہان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے اور محکمانہ کارروائی کی جائے ۔ انصاف ہوگا ۔
سراج احمد ولد محمد نواز ذات بلوچ سکنہ خان کالونی ملتان روڈ بہاولپور
کاپی برائے اطلاع
1- DIG صاحب بہاولپور
2- DPO صاحب بہاولپور
3- DSP ٹریفک پولیس بہاولپور







