خواتین یونیورسٹی: ڈی ڈی او تعیناتی تنازع، وی سی حکمنامہ اعتراضات پر واپس

ملتان (سٹاف رپورٹر)خواتین یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ایک حالیہ دفتری حکم نامے نے یونیورسٹی کے قانونی و انتظامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کی جانب سے ایک لیکچرر کو ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (DDO) کی ذمہ داریاں سونپنا نہ صرف یونیورسٹی ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اقدام انتظامی ناسمجھی اور اختیارات کے غلط استعمال کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ کرپٹ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے کماؤ پوت ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق کے مطابق عشرت ریاض نامی خاتون لیکچرر کو جو بنیادی طور پر شعبہ شماریات (Statistics) میں لیکچرر ہیں اور محض ایڈیشنل چارج بطور ایڈیشنل ٹریژرر رکھتی ہیں، کوڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر کی ذمہ داریاں تفویض کر دی گئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تعیناتی قانونی طور پر ناقابلِ جواز ہے کیونکہ خواتین یونیورسٹی ملتان ایکٹ کے سیکشن 15/3 (Funds and Investment of University) میں واضح طور پر درج ہے کہ یونیورسٹی کے مالی امور اور بطور DDO ذمہ داریاں ٹریژرر کی آئینی (Statutory) ذمہ داری ہیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایکٹ واضح طور پر یہ طے کر دے کہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر کون ہوگا تو وائس چانسلر کسی بھی صورت میں اپنی صوابدید پر کسی دوسرے افسر کو یہ اختیارات منتقل نہیں کر سکتیں۔ ناقدین کے مطابق وائس چانسلر کا یہ اقدام خود یونیورسٹی ایکٹ کی نفی کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر وائس چانسلر اس نوعیت کا کوئی انتظامی فیصلہ کرنا بھی چاہتیں تو کم از کم اسے سینڈیکیٹ کے ذریعے لایا جانا چاہیے تھا، تاہم قانونی ماہرین اس نکتے پر بھی متفق نظر آتے ہیں کہ یہ اختیار بذاتِ خود سنڈیکیٹ کو بھی حاصل نہیں کیونکہ ایکٹ میں DDO کی ذمہ داری واضح طور پر ایک آئینی عہدے سے منسلک ہے۔ وائس چانسلر کی جانب سے اپنے فیصلے کے حق میں سیکشن 12(4-A) کا حوالہ دیا گیا ہے تاہم ناقدین کے مطابق یہ شق محض وائس چانسلر کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اساتذہ یا ملازمین کو انتظامی امور میں معاون ذمہ داریاں سونپ سکیں، لیکن اس شق کے تحت کسی بھی صورت میں ایکStatutory Financial Power جیسے DDO کے اختیارات کسی غیر مجاز فرد کو منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اس فیصلے کے پیچھے محض لاعلمی ہے یا پھر جان بوجھ کر قانون کو نظرانداز کیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے ادارے کی ساکھ، شفافیت اور مالی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان بن رہے ہیں۔ یہ خبر جب موقف کیلئےکرپٹ وائس چانسلر کو بھجوائی گئی تو انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹر عشرت ریاض سے ڈرائنگ اینڈ ڈسپرسنگ آفیسر کا چارج لیتے ہوئے خزانچی کا چارج ڈاکٹر انعم جاوید کو سونپ دیا۔ اور گزشتہ روز نکالا گیا لیٹر خبر کے موقف کے لیے بھیجنے کے فوری بعد واپس لے لیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے خزانچی کا پچھلا چارج ڈاکٹر تنزیلہ کو 3 ماہ کے لیے سونپا تھامگر وہ ذاتی وجوہات اور ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ساتھ دھوکہ دہی میں ملوث نہ ہونا چاہتی تھیں جس پر انہوں نے چھٹیاں لے رکھی تھیں۔ مگر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے 3 ماہ سے پہلے ہی وہ چارج غیر قانونی طور پر ختم کرتے ہوئے خزانچی کا اضافی چارج ڈاکٹر انعم جاوید کو سونپ دیا۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹرکلثوم پراچہ کی’’ گمشدہ‘‘ میٹرک فائل خفیہ طریقے سے ملتان بورڈ کو واپس

ملتان (وقائع نگار) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان سے خواتین یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی میٹرک کی فائل مبینہ طور پر گم ہونے کامعاملہ ایک بڑے انتظامی اور اخلاقی سکینڈل کی صورت اختیار کر گیا ہےجس نے تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹرک کی اس اہم فائل کی گمشدگی پر سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان خرم شہزاد قریشی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے الزام ثابت ہونے پر بورڈ میں تعینات جونیئر ریکارڈ لفٹر عمران حیدر کو معطل کر دیا۔ مذکورہ ملازم پر فائل کی حفاظت میں غفلت اور لاپروائی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔حیران کن طور پر معطلی کے بعد ریکارڈ لفٹر نے خواتین یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے رابطہ کیا اور ان سے بارہا منت سماجت کی کہ وہ میٹرک کی فائل واپس کر دیں تاکہ وہ خود کو بے گناہ ثابت کر سکے۔ کیوں کہ 27 دسمبر کو سیکرٹری بورڈ خرم شہزاد قریشی نے ریکارڈ لفٹر عمران حیدر کو پرسنل ہیرنگ کے لیے طلب کیا ہے تاہم اسی دوران ایک منصوبہ ترتیب دیا گیا کہ اگر فائل براہِ راست ریکارڈ لفٹر کے ذریعے واپس کی گئی تو تمام تر ذمہ داری وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ریکارڈ لفٹر پر عائد ہو جائے گی اور وہ باضابطہ طور پر مجرم قرار پا جائیں گے۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی میٹرک کی فائل جو مبینہ طور پر اثر و رسوخ اور بھاری احسانات کے بدلے حاصل کی گئی تھی، پاکستان پوسٹ کے ذریعے ایک نامعلوم شہری کے نام سے سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان کو ارسال کر دی گئی تاکہ فائل کی واپسی کے اصل پس منظر کو دھندلا دیا جائے۔ اس تمام معاملے کا بوجھ خواتین یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ پر ہی آتا دکھائی دیتا ہےجن پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے تعلیمی اور سرکاری ریکارڈ میں دو مرتبہ مبینہ طور پر تاریخِ پیدائش تبدیل کروائی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے 1982 میں میٹرک پاس کرنے کے بعد کئی دہائیوں تک اس ریکارڈ پر کوئی اعتراض نہیں کیا، تاہم 2014 میں گورنمنٹ ملازمت جوائن کرنے کے بعد اچانک اپنی تاریخِ پیدائش میں تبدیلیاں کروائیں جو سرکاری قوانین اور سروس رولز کے تحت ایک سنگین معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے سگے بھائی بھی ماضی میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان کے ملازم رہ چکے ہیں، جس کے باعث اس پورے معاملے میں مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ جس مبینہ جعلی تجربہ سرٹیفکیٹ کو ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے کیریئر میں استعمال کیا، وہ کالج بھی بورڈ آفس کے بالکل ساتھ واقع تھا۔ مالی معاملات کے حوالے سے بھی سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کانفرنس اور فلڈ ریلیف کے نام پر جمع کی جانے والی رقوم ایک ذاتی اکاؤنٹ 12047902158599، HBL Konnect (BISE برانچ گلگشت کالونی ملتان میں وصول کرتی رہی ہیں، جو حبیب بینک کی بورڈ برانچ میں ان کے نام پر قائم ہےحالانکہ قواعد کے مطابق اس نوعیت کی رقوم سرکاری یا ادارہ جاتی اکاؤنٹس میں جمع ہونی چاہئیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے ایڈمن افیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالا کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ سر پرستی سے غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز، جعلی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔ اور مبینہ طور پر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی QUO WARRANTO کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں