اوچشریف (کرائم رپورٹر) اوچشریف میں گزشتہ دنوں خفیہ طور پر عریاں حالت میں نازیبا ، فحش مواد پر مبنی وائرل ہونے والی ویڈیوز کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں جس میں احسن رضا ، عمر ، ندیم ، عرفان و دیگر پر مشتمل ایک بلیک میلر گینگ سامنے آیا ہے جس میں اوچ گیلانی کی رہائشی عظمیٰ خورشید نامی لڑکی بھی شامل ہے جو شرفاء کی بچیوں کو پھانستے ہوئے ورغلا کر انہیں اپنے گروہ کے لڑکوں تک لے آتی ہے جو ان کی عزتیں پامال کر کے خفیہ ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ گروہ پچھلے کئی سالوں سے عظمیٰ خورشید کے ذریعے شرفاء کی بچیوں کی عزتیں پامال کر رہے ہیں جن کی زد میں آ کر بدنامی کے خوف سے ایک لڑکی خودکشی کر کے اپنی جان بھی دے چکی ہے جن کی ویڈیوز وائرل ہونے پر تھانہ اوچشریف میں پولیس کی مدعیت میں مقدمہ بھی درج ہوا ہے تاہم گینگ کے جرائم منظر عام پر آنے کے بعد جرم پر پردہ ڈالنے اور اپنے کرتوت چھپانے کے لیے وائرل ہونے والی ویڈیوز کے جواب میں عظمیٰ خورشید نے فحش حرکات کرنے والے جس احسن رضا کو اپنا شوہر کہا ہے وہ پہلے سے شادی شدہ ہے جبکہ عظمیٰ خورشید بھی خود اوچ گیلانی کے رہائشی محمد آصف کی بیوی ہے جن کا کیس پچھلے تین چار سالوں سے عدالت میں ہے جن کا ایک بچہ بھی ہے جسے آصف اپنی اولاد نہیں مانتا اور عدالت میں جاری کیس میں بچے کا ڈی این اے کرانے کی درخواست کر رکھی ہے۔ خفیہ ذرائع کے مطابق گروہ کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے عظمیٰ خورشید اپنے شوہر آصف سے طلاق لے کر احسن رضا سے نکاح کر کے اپنے آپ کو میاں بیوی ثابت کر کے گینگ کو سزا سے بچانا چاہتی ہے جس سے عوامی سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور انہوں نے اس بلیک میلر گینگ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر کے سخت قوانین کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ کے لیے شرفاء کی بچیاں محفوظ ہوں کسی بھی شریف کی بچی بلیک میل نہ ہو سکے اور نہ بدنامی کے خوف سے اپنی جان دینے پر مجبور ہو ۔







