اعلیٰ تعلیم ایک خاموش نجکاری، 70 کامرس کالجز سرکاری، جامعات کے حوالے کرنے کی تیاری

ملتان (عامر حسینی سے ) پنجاب حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک ایسا فیصلہ عملی شکل دینا شروع کر دی ہے جسے سرکاری بیانات میںری سٹرکچرنگ‘‘، آؤٹ سورسنگ اور پبلک ٹو پبلک ٹرانسفرکہا جا رہا ہے، مگر اس کے نتائج واضح طور پر خاموش نجکاری کی طرف بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ منصوبے کے تحت صوبے بھر میں قائم 70 سے زائد سرکاری کامرس کالجز کو17سرکاری جامعات کے حوالے کیا جا رہا ہےجس سے کم لاگت سرکاری تعلیم بتدریج فیس پر مبنی نظام میں تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، یہ اقدام محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی نگرانی میں آگے بڑھایا جا رہا ہےجس نے متعلقہ جامعات کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے کامرس کالجز سنبھالنے کے لیے تفصیلی فزیبلٹی رپورٹس جمع کرائیں۔ ان رپورٹس میں نئے پروگرامز، مارکیٹ سے ہم آہنگ کورسز، ایمپلائبلٹی، وسائل کے مؤثر استعمال اور عمل درآمد کی ٹائم لائنز شامل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ اصطلاحات اس بات کا کھلا اعلان ہیں کہ ریاست تعلیم کو عوامی حق کے بجائے ریونیو ماڈل کے تحت منظم کرنا چاہتی ہے۔جن جامعات کو یہ کالجز سونپے جا رہے ہیں، ان میں جامعہ پنجاب، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان، یونیورسٹی آف سرگودھا اور دیگر ادارے شامل ہیں۔ یہی وہ جامعات ہیں جو پہلے ہی سرکاری فنڈنگ میں کمی، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دباؤ اور بڑھتے اخراجات کے باعث ٹیوشن فیس، ہاسٹل چارجز اور سیلف فنانس کوٹہ نمایاں طور پر بڑھا چکی ہیں۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ چونکہ کالجز سرکاری جامعات کو دیے جا رہے ہیں، اس لیے نجکاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر ناقدین کے مطابق اصل مسئلہ ملکیت نہیں بلکہ کنٹرول، لاگت اور ذمہ داری کا ہے۔ جیسے ہی یہ کالجز جامعات کے ماتحت آئیں گے، فیسوں کا تعین، داخلوں کی پالیسی، پروگرامز کا انتخاب اور انتظامی فیصلے صوبائی حکومت کے بجائے ایسی جامعات کریں گی جو پہلے ہی خود کو مالی طور پر “خود کفیل” بنانے پر مجبور ہیں۔اس فیصلے کی بنیاد اچانک نہیں رکھی گئی۔ اس سے قبل پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یہ تجویز دی تھی کہ سرکاری کالجز کو اسی ضلع یا ڈویژن کی جامعات کے “کانسٹیچوئنٹ کالجز” قرار دیا جائے۔ کمیشن کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ اور اساتذہ کے عدم توازن، انتظامی رکاوٹوں، انفراسٹرکچر کی کمی اور محدود تعلیمی خودمختاری جیسے مسائل حل کرنا اور کالجز کو “جدید تعلیمی تقاضوں” سے ہم آہنگ بنانا تھا۔ تاہم تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں اصلاحات کے نام پر نجکاری کا راستہ ہموار کیا گیا۔موجودہ فیصلہ دراصل 2024 میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے، جب محکمہ ہائر ایجوکیشن نے تمام کامرس کالجز کو جنرل کالجز میں ضم کر دیا تھا۔ اس عمل کے تحت آٹھ خواتین کامرس کالجز کو قریبی خواتین جنرل کالجز میں شامل کیا گیا۔ اس انضمام سے لاہور، ملتان، فیصل آباد، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، خانیوال، چنیوٹ، سیالکوٹ، نارووال اور راجن پور جیسے اضلاع متاثر ہوئے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں 400 سے زائد اساتذہ اور ہزاروں طلبہ براہِ راست متاثر ہوئے، جنہیں بعد ازاں جنرل ایجوکیشن کالجز میں منتقل کر دیا گیا۔ اس وقت بھی حکومت نے اسے “انتظامی بہتری” قرار دیا تھا، مگر ناقدین کے مطابق وہ قدم دراصل موجودہ نجکاری نما پالیسی کی تمہید تھا۔کامرس اور بزنس تعلیم پہلے ہی سرکاری جامعات میں سب سے مہنگے شعبہ جات میں شامل ہے، جہاں سیلف فنانس پروگرامز اور پریمیم ڈگریاں معمول بن چکی ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ یہی جامعات درجنوں نئے کالجز، ہزاروں اضافی طلبہ اور اضافی عملے کا بوجھ بغیر فیسوں میں اضافے کے اٹھا سکیں گی، خاص طور پر جب حکومت نے کسی مستقل، قانونی اور طویل المدتی فنڈنگ فریم ورک کا اعلان نہیں کیا۔اس پالیسی کے سب سے سنگین اثرات جنوبی اور مغربی پنجاب کے اضلاع میں سامنے آنے کا خدشہ ہے، جہاں یہ کامرس کالجز محنت کش اور نچلے متوسط طبقے کے لیے پیشہ ورانہ تعلیم کا آخری سستا سہارا تھے۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفرگڑھ، بھکر اور بہاولپور جیسے علاقوں میں فیسوں میں معمولی اضافہ بھی ہزاروں نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کر سکتا ہے۔حکومت اور بعض وائس چانسلرز فیس سبسڈی اور معیار میں بہتری کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں، مگر تاحال نہ تو فیس کی کوئی قانونی حد مقرر کی گئی ہے، نہ مستقل سرکاری بجٹ کی ضمانت دی گئی ہے، اور نہ ہی کوئی آزاد نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ تعلیمی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ یقین دہانیاں محض زبانی وعدے ہیں۔آخرکار وہ بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے جس سے حکومت مسلسل گریز کر رہی ہے: اگر پنجاب کی سرکاری جامعات اپنے موجودہ شعبہ جات میں کامرس اور بزنس تعلیم کو سستا رکھنے میں ناکام رہی ہیں، تو وہ 70 سے زائد نئے کامرس کالجز سنبھال کر انہیں نجی اداروں میں بدلے بغیر قابلِ استطاعت تعلیم کیسے فراہم کریں گی؟ جب تک اس سوال کا جواب شفاف اعداد و شمار، قانونی ضمانتوں اور فیس کنٹرول کے ساتھ نہیں دیا جاتا، یہ فیصلہ تعلیمی اصلاح نہیں بلکہ سرکاری تعلیم کی خاموش نجکاری ہی کہلائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں