خانیوال (نمائندہ خصوصی) تھانہ صدر خانیوال کےمقدمہ نمبر 1112/25 میں ایک سادہ لوح شہری کے ساتھ 51 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کے الزام میں درج ہوا، مگر انصاف مانگنے والا متاثرہ شخص خود پولیس کے ہاتھوں لوٹ مار کا شکار ہو گیا۔ فراڈ کے بعد جب متاثرہ شہری نے پولیس سے مدد مانگی تو انسپکٹر حامد عطا نے 83 ہزار روپے رشوت اپنے بھائی آصف عطا کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروانے کا مطالبہ کیا اور رقم وصول بھی کی، جس کے شواہد متاثرہ شخص کے پاس موجود ہیں۔متاثرہ شخص کے مطابق، اس نے رشوت کی ادائیگی اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف باقاعدہ درخواست ڈی پی او خانیوال کے دفتر میں جمع کرا دی، تاہم الزامات کی زد میں آنے والا پولیس ملازم تاحال ایک بار بھی انکوائری میں پیش نہیں ہوا۔ متاثرہ شہری ندیم اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ “51 لاکھ کے فراڈ کے بعد امید تھی پولیس اس کا ساتھ دے گی، مگر یہاں تو مجھے پولیس نے بھی لوٹ لیا۔ انصاف لینے گیا تھا۔ شہری حلقوں نے ڈی پی او خانیوال اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ افسر حامد عطا اور اس کے بھائی کے خلاف شفاف انکوائری کر کے، رشوت کے ثبوتوں کی روشنی میں سخت محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے اور 51 لاکھ فراڈ کیس کے اصل ملزمان کو بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا۔








