ملتان میں جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی، شہریوں کے کروڑوں ڈوب گئے، 13 سال سے بے گھر

ملتان( خبر نگار) حکومت پنجاب کی طرف سے نئی کوآپریٹو سوسائٹیز کی رجسٹریشن پر مکمل پابندی کے( 14 )سال بعد سرکاری اہلکاروں اور لینڈ مافیا نے ملی بھگت سے ایک جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی بنا کر ملتان کے شہریوں کو کروڑوں روپے سے محروم کر دیا، ہاؤسنگ سکیم میں ترقیاتی کاموں کے بجائے فروخت شدہ پلاٹوں کی مٹی بڑے پیمانے پر بیچ کر اراضی کو گڑھوں میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ دوسری طرف 13 سال گزر جانے کے باوجود الاٹیز دھکے کھا رہے ہیں مگر اس بڑے فراڈ میں ملوث لینڈ مافیا کے کسی بھی ایک ممبر یا سرکاری اہلکار کے خلاف سرے سے ہی کوئی کارروائی نہ ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ رہائشی منصوبہ کے نام پر سرکاری ملازمین کو لوٹنے کے لیے نہایت باریک بینی سے ایک جال بنا گیا اور اس غرض سے ایک مردہ سوسائٹی’’ دی گورنمنٹ آفیشلز کو آپریٹو ہاؤس بلڈنگ سوسائٹی لمیٹڈ ملتان‘‘ کا انتخاب کیا گیا جو7 جولائی1949میں رجسٹرڈ نمبر 115 کے تحت رجسٹرڈ ہوئی تھی۔ اس سوسائٹی نے اس وقت پل موج دریا ، عقب مسلم گرلز ہائی سکول ،ٹیچرز کالونی کے نام سے ایک رہائشی منصوبہ بنایا جس کی تکمیل کے بعد یہ سوسائٹی مردہ ہو گئی اور اس کے بعد مذکورہ سوسائٹی نے کسی قسم کی کارروائی آگے نہ بڑھائی جبکہ 1997 سے حکومت نے نئی کو آپریٹو سوسائٹیز کی رجسٹریشن پر مکمل پابندی عائد کر رکھی تھی جس کے باعث نئی کو آپریٹو سوسائٹی کا انعقاد اور رجسٹریشن ممکن نہ تھی لہٰذامقصد براری کے لیے اس وقت کے ڈسٹرکٹ رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز رانا محمد ولایت کی ملی بھگت سے ایک چور راستہ اختیار کیا گیا ۔ایم ڈی اے کے ایک پبلسٹی انسپکٹر غفار احمد شاہد نے 56 سرکاری ملازمین کو ممبر بنا لیا اور یہ اضافی ممبر اس متروک’’ دی گورنمنٹ آفیشلز کو آپریٹو ہاؤس بلڈنگ سوسائٹی‘‘ میں بطور اضافی ممبران شامل کرادیئے گئے جس کی منظوری بھی رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز پنجاب سےچٹھی نمبر 290/ 12 16 /11 آر سی ایس کے تحت یکم مارچ 2011 کو جاری کر دی جبکہ دوسری طرف باقاعدہ منظوری سے قبل ہی یکم جنوری 2011 کو مذکورہ متروک سوسائٹی کا از خود غیر قانونی اجلاس بلوا کر غفار احمد شاہد خود صدر ،ملک محمد رمضان جنرل سیکرٹری بن گئے۔ اسی طرح دیگر عہدوں کی بندر باٹ بھی آپس میں کر لی گئی۔ واضح رہے کہ مذکورہ سوسائٹی کی تشکیل نو میں سابقہ ممبران میں سے کسی ایک کو بھی مدعو نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے علم میں لایا گیا ، اس سوسائٹی کا سابقہ اکاؤنٹ نمبر 213 پنجاب پروونشل کوآپریٹو بینک میں موجود تھا اسے آپریٹ کرنے کی بجائے غیر قانونی طور پر ایک نیا اکاؤنٹ کھلوایا گیا جو کہ بائی لاز نمبز 43(B) کی صریحاًخلاف ورزی تھا۔ علاوہ ازیں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مجاز اتھارٹی سے نو نامزد مینجمنٹ کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کروائے بغیر ہی متنازعہ امور شروع کر دیئے گئے ، گورنمنٹ آفیشلز کوآپریٹو ہاؤس بلڈنگ سوسائٹی ملتان کی نئی خودساختہ مینجمنٹ کمیٹی نے ڈی او سی ملتان سے پیشگی منظوری حاصل اور علم میں لائے بغیر ہی ابتدائی طور پر 25 ایکڑ رقبہ خرید لیا اور سائٹ پلان کی باقاعدہ منظوری کے بغیر اسی پر 321 پلاٹ بنا دیئے گئے ۔ علاوہ ازیں ایک اور کارروائی ڈالتے ہوئے ایم ڈی اے کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے ایک ڈرافٹس مین محمد یوسف کے ساتھ ملی بھگت کر کے کاغذوں میں ظاہر کئے بغیر ہی ’’ دی پلانرز‘‘ کے نام سے ٹاؤن پلاننگ کرنے والی ایک پرائیویٹ کمپنی تشکیل دی دے دی گئی ، بعد ازاں سوسائٹی کی نئی مینجمنٹ کمیٹی نے پلاٹنگ ، نقشہ اور سائٹ پلان ، اسی ’’دی پلانرز ‘‘سے بنوا لیا گیا جبکہ اس سائٹ پلان کی سرکاری منظوری کے بغیر ہی آٹھ فروری 2012 میں ایک متنازعہ اور غیر قانونی قرعہ اندازی کر کے 307 ممبران کو پلاٹ بھی الاٹ کر دیئے گئے جبکہ الاٹمنٹ کی کارروائی رجسٹر میں درج کی گئی اور نہ ہی محکمہ کوآپریٹو سوسائٹیز کے کسی نمائندے کو اس غیر قانونی کارروائی میں حسب ضابطہ شامل کیا گیا ، مذکورہ سوسائٹی کے قیام سے لے کر آج دن تک کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے کسی ایک بھی اصول ، ضابطے پر عمل درآمد نہ کیا گیا۔ سوسائٹی مذکورہ کی اصل رجسٹریشن فائل ڈپٹی رجسٹرار آفس ملتان کے دفتر سے گم ہو چکی ہے سوسائٹی کے جمع شدہ کروڑوں روپے خورد برد ہو چکے ہیں۔ 13 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود موقع پر ترقیاتی کام برائے نام ہیں ، بجلی ،پانی، سیوریج ،سڑکیں، سکول، مسجد، پارکس ،کمیونٹی سنٹر کا نام و نشان تک نہیں جبکہ الاٹی حصول انصاف کے لیے دربدر دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں