صادق ویمن یونیورسٹی، اسسٹنٹ خزانچی کیخلاف شکایات کاانبار، عملہ ہراسانی کا شکار

بہاولپور (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں تعینات اسسٹنٹ خزانہ دار/اسسٹنٹ ٹریژرر منصور احمد خان کے خلاف سنگین بدانتظامی، ہراسانی اور غیر پیشہ ورانہ رویّوں کی طویل مبینہ تاریخ سامنے آ گئی ہے، جس کے باوجود ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق منصور احمد خان کو مبینہ طور پر رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کی سرپرستی حاصل ہےجس کے باعث متعدد شکایات اور وضاحت طلب نوٹسز کے باوجود معاملہ دبایا جاتا رہا۔ دستاویزی ریکارڈ اور یونیورسٹی ذرائع کے مطابق منصور احمد خان کے خلاف مختلف اوقات میں متعدد سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے۔ چیئرپرسن پرچیز کمیٹی نے باقاعدہ طور پر ہراسانی کی درخواست دائر کی جبکہ گرلز ہاسٹل میں بغیر اجازت داخلے پر اس وقت کے ٹریژرر کی جانب سے وضاحت طلب کی گئی۔ اسی طرح ایک بینک منیجر ریاض حسین شاہ نے شکایت درج کروائی کہ منصور احمد خان نے نہایت غیر مہذب اور فحش زبان استعمال کی، جس پر بھی وضاحت طلبی کی گئی۔ دفتر میں سگریٹ نوشی جیسے قواعد کی کھلی خلاف ورزی پر وارننگ دی گئی تاہم رویّے میں کوئی واضح بہتری دیکھنے میں نہ آئی۔ پرچیز کمیٹی کی ایک شکایت میں ایک سنگین واقعہ بیان کیا گیا جس میں ٹریژرر آفس سے منسلک افراد بالواسطہ طور پر منصور احمد خان پر تالے توڑنے اور سٹور کیپر کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیاجس سے یونیورسٹی میں بدانتظامی اور خوف کا ماحول پیدا ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق نومبر 2018 میں فحش اور بدتمیز زبان کے استعمال پر باقاعدہ وضاحت طلب کی گئی۔ فروری 2019 میں ایک خاتون اسسٹنٹ ٹریژرر نے شدید کردار کشی، دھمکیوں اور ناقابلِ برداشت ہراسانی پر تفصیلی شکایت دائر کی۔ شکایت میں منصور احمد خان سے منسوب جملے بھی درج ہیںجن میں خاتون افسر کی کردار کشی اور نوکری سے نکلوانے کی دھمکیاں شامل ہیں، جس نے معاملے کی سنگینی میں مزید اضافہ کیا۔ مئی 2019 میں یونیورسٹی سکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی سامنے آئی، جب چیف سکیورٹی آفیسر نے رپورٹ دی کہ منصور احمد خان نے قواعد کے برخلاف موٹر سائیکل زبردستی کیمپس میں داخل کی اور انتظامیہ کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔ جولائی 2019 میں ساتھی ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کی ایک اور شکایت سامنے آئی، جس میں پرچیز کمیٹی نے کمپیوٹر آپریٹر لقمان کے ساتھ گالی گلوچ، تضحیک اور دفتر سے نکالنے کا الزام عائد کیا، جس کی یحییٰ وقاص نے بھی تصدیق کی۔ یونیورسٹی کے حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ اتنی طویل اور سنگین نوعیت کی مبینہ شکایات کے باوجود منصور احمد خان کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اساتذہ، ملازمین اور سول سوسائٹی نے اعلیٰ حکام، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ نگران اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون و قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائےتاکہ یونیورسٹی میں محفوظ، باوقار اور پیشہ ورانہ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی پی آر او سے رابطہ کیا گیا خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہ ہو سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں