ایڈز کیس، سزا یافتہ ڈاکٹر کاظم کی پھر تعیناتی، نشتر کا جوائننگ سے انکار، لمبی چھٹی لے لی

ملتان (وقائع نگار) نشتر ہسپتال ملتان کے ڈائیلاسز یونٹ میں 28 افراد کے ایڈز میں مبتلا ہونے کے سانحہ کے مرکزی کردار ڈاکٹر کاظم کو دوبارہ نشتر ہسپتال ملتان میں ایڈیشنل پرنسپل میڈیکل آفیسر تعینات کر دیا گیا جو شخص چند ماہ پہلے تک اعلیٰ سطح کی انکوائری بھگت رہا تھا اپنے آپ کو ہر لحاظ سے کلیئر کروا کر اسی ہسپتال میں دوبارہ تعینات ہو گیا نشتر ہسپتال ملتان کی انتظامیہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر موصوف 89 دن کی رخصت لے کر چلے گئے نشتر ہسپتال ملتان میں سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر محمد کاظم کی مبینہ غفلت اور نااہلی کے باعث 28 مریضوں کے ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہونے کے معاملے میں نئی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نے ڈاکٹر کاظم کو دوبارہ نشتر ہسپتال میں ایڈیشنل پرنسپل میڈیکل آفیسر کے عہدے پر تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں، جبکہ ڈاکٹر کاظم نے جوائننگ دینے کے فوراً بعد 89 دن کی رخصت حاصل کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ سال ڈائیلائسز یونٹ میں معیاری طریقہ کار کی خلاف ورزی اور دوبارہ استعمال ہونے والے آلات کی وجہ سے تقریباً 30 مریض ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تھے، جن میں سے 28 کی تصدیق ہوئی تھی۔ انکوائری رپورٹ میں ڈاکٹر کاظم کو مرکزی طور پر قصوروار قرار دیا گیا تھا اور الزامات ثابت ہونے پر انہیں ایک سال کی سروس ضبط کرنے کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ سزا پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کی گئی تھی، جس کے بعد ڈاکٹر کاظم کو معطل کر دیا گیا تھا۔تاہم حال ہی میں سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نے ڈاکٹر کاظم کی دوبارہ تعیناتی کے احکامات جاری کیےجو کہ ہسپتال انتظامیہ اور طبی برادری میں تنازع کا باعث بنے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مریضوں کی صحت اور حفاظت کو خطرے میں ڈال سکتا ہےجبکہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا موقف ہے کہ یہ تعیناتی ریگولیٹری عمل کے مطابق ہے۔ڈاکٹر کاظم نے جوائننگ رپورٹ جمع کرانے کے بعد فوری طور پر 89 دن کی رخصت کی درخواست دی جو منظور کر لی گئی۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رخصت طبی یا ذاتی وجوہات کی بنیاد پر ہے، لیکن اس کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، البتہ کہا کہ تمام تعیناتیاں میرٹ اور قوانین کے مطابق کی جاتی ہیں۔ دوسری جانب مریضوں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر کاظم کی تعیناتی کو منسوخ کیا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں