جامعات میں فیول کرپشن پر ایچ ای ڈی کو صوبائی محتسب کا دوسرا نوٹس، کاروائی کی وارننگ

ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے صوبائی محتسب (Ombudsman Punjab) کے نوٹسز کو مسلسل نظرانداز کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث صوبائی محتسب کو نہ صرف دوسرا نوٹس جاری کرنا پڑا بلکہ واضح وارننگ بھی دینا پڑی کہ اگر اب بھی جواب جمع نہ کروایا گیا تو قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی محتسب پنجاب کی جانب سے نوٹس نمبر 447CF8D کے تحت شکایت نمبر MSM25MT20006813 میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پنجاب (سیکرٹری) کو 6 دسمبر 2025 کو دوسرا نوٹس جاری کیا گیا۔ یہ نوٹس صوبائی محتسب پنجاب ایکٹ 1997 کے سیکشن 10(4) کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اس سے قبل 17 نومبر 2025 کو جاری کیے گئے پہلے نوٹس کے باوجود محکمہ ہائر ایجوکیشن نے تاحال یونیورسٹیوں میں ٹرانسپورٹ میں فیول کی مد میں مبینہ کروڑوں کی کرپشن پر مطلوبہ رپورٹ یا پیرا وائز کمنٹس جمع نہیں کروائے۔معاملہ ایک شائع شدہ خبر سے متعلق ہے جو 20 اکتوبر 2025 کو شائع ہوئی جس کا موضوع سرکاری یونیورسٹیوں میں ٹرانسپورٹ کے ذریعے کروڑوں کی کرپشن بتایا گیا ہے۔ صوبائی محتسب کے نوٹس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ محکمہ نہ صرف قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا بلکہ ایک آئینی و قانونی ادارے کی ہدایات کو مسلسل نظرانداز کرتا رہا۔ نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ 23 دسمبر 2025 تک مکمل رپورٹ اور پیرا وائز جواب لازمی طور پر جمع کروایا جائے وہ بھی ایسے ذمہ دار افسر کے ذریعے جو کیس کے تمام حقائق سے مکمل طور پر آگاہ ہو۔ نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں جواب نہ دیا گیا تو پنجاب آفس صوبائی محتسب ایکٹ 1997 کے تحت نہ صرف دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی بلکہ معاملہ متعلقہ اتھارٹی کو بھی بھیجا جا سکتا ہے تاکہ ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکے۔ شہری اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا یہ رویہ نہ صرف ادارہ جاتی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ شفافیت اور احتساب کے سرکاری دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ایک صوبائی محتسب جیسے آئینی ادارے کے نوٹسز کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو عام شہری کی شکایات کا ازالہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی محتسب کی جانب سے جاری دوسرا نوٹس دراصل محکمہ ہائر ایجوکیشن کے لیے ایک آخری وارننگ ہے، جس کے بعد قانونی شکنجہ مزید سخت ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا محکمہ مقررہ تاریخ تک جواب دے کر قانون کی پاسداری کرتا ہے یا پھر خود کو قانونی کارروائی کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر، ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور اور سیکشن آفیسر ظہیر علی سے بات کی گئی اور پوچھا گیا کہ آپ نے اس نوٹس پر کیا ایکشن لیا کیونکہ آج صوبائی محتسب کی جانب سے ڈیڈ لائن ہے تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں