لاہور: عدالت کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف آنرشپ آف اممویبل پراپرٹی (غیر منقولہ جائیداد کے تحفظ) کے قانون کی معطلی پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مریم نواز نے اس فیصلے کو قبضہ مافیا کے حق میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے پہلی بار ایک ایسا قانون بنایا جو برسوں اور نسلوں پر محیط زمین و جائیداد کے مقدمات کو صرف 90 دن کے اندر حل کرنے کی حد مقرر کرتا ہے۔ یہ قانون خاص طور پر عوام کو طاقتور لینڈ مافیا کے چنگل سے نجات دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ اس قانون کے ذریعے مظلوم اور ستائے ہوئے عوام کو ان کی زمین و جائیداد کے تحفظ کے لیے قانونی طاقت دی گئی، اور یہ قانون شہادت پر مبنی عدالتی نظام کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی معطلی فیصلہ اعلیٰ عدلیہ کے طے کردہ مسلمہ اصولوں کے مطابق نہیں ہے اور اس سے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچے گا۔ عوام اسے مظلوموں کے ساتھ ناانصافی اور طاقتوروں کی پشت پناہی کے طور پر دیکھیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانون کسی فرد یا شخصیت کے لیے نہیں بلکہ لاکھوں عام شہریوں، بیواؤں، مسکینوں اور بے کسوں کے حق میں بنایا گیا تھا تاکہ ان کی داد رسی ممکن ہو۔ اس قانون کی معطلی سے عام عوام، جو دہائیوں سے زمینوں کے مقدمات میں پھنسے ہوئے تھے، کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ زمینوں کے مقدمات میں برسوں تک اسٹے آرڈرز چلتے رہتے ہیں اور یہ قانون مظلوم عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون سازی صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے اور اسے روکنا کسی بھی صورت ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ قانون کی معطلی کا نقصان کسی فرد یا حکومتی شخصیت کو نہیں بلکہ غریب، مظلوم اور بے سہارا عوام کو پہنچے گا، جن کی امیدیں اور آسیں عدالت کے نظام پر قائم تھیں۔ انصاف نہ ملنے کی صورت میں مظلوم عوام کی توقعات مایوسی میں بدل جائیں گی۔







