ملتان (سٹاف رپورٹر) فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) نے پاکستان بھر میں یونیورسٹی اساتذہ کو درپیش اہم مسائل کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیاہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ حکومتی اداروں سے بارہا رابطوں کے باوجود پچیس فیصد ٹیکس ریبیٹ کی بحالی، بنیادی پے سکیل کے تحت منصفانہ ترقیاتی پالیسی کی تشکیل اور ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت اساتذہ کی تنخواہوں میں نظرثانی جیسے بنیادی مسائل تاحال حل طلب ہیں۔فپواسا کی قیادت نے ان دیرینہ مطالبات پر ٹھوس پیش رفت کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ قائم مقام چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ ایک ملاقات میں اس بات کا واضح وعدہ کیا گیا تھا کہ بنیادی پے سکیل کی ترقیاتی پالیسی کو وائس چانسلرز کے ساتھ زیرِ بحث لا کر ایک دوستانہ، شفاف اور باہمی طور پر قابلِ قبول فریم ورک تیار کیا جائے گا۔ تاہم اس کے بعد نہ تو کوئی بامعنی پیش رفت سامنے آئی اور نہ ہی کوئی باضابطہ اطلاع دی گئیجس سے تعلیمی برادری میں شدید مایوسی پھیل رہی ہے۔ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت اساتذہ کی تنخواہوں کے معاملے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن، پلاننگ کمیشن کے نمائندگان اور فپواسا کے درمیان مشترکہ اجلاسوں میں تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ان اجلاسوں کے بعد تینوں فریقین کے درمیان ایک متفقہ دستاویز پر اتفاق ہوا۔ بعد ازاں یہ طے پایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن فپواسا کے ساتھ ایک فالو اپ اجلاس منعقد کرے گا جس میں کمیشن کی جانب سے مرتب کی گئی حتمی سفارشات سے آگاہ کیا جائے گا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خاصا وقت گزرنے کے باوجود ایسا کوئی اجلاس تاحال منعقد نہیں کیا گیا، جو ادارہ جاتی عدم سنجیدگی کی واضح مثال ہے۔ فپواسا یونیورسٹی اساتذہ کے لیے پچیس فیصد ٹیکس ریبیٹ کی فوری بحالی، ایک منصفانہ، شفاف اور قابلِ عمل بنیادی پے سکیل ترقیاتی پالیسی کے نفاذ اور ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت اساتذہ کے لیے مناسب اور دیرینہ تنخواہ میں اضافے کا بھرپور مطالبہ کرتی ہے۔ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ گزشتہ چار برسوں سے یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیاجبکہ بے مثال مہنگائی اور قومی کرنسی کی مسلسل قدر میں کمی نے ان کی معاشی حالت اور پیشہ ورانہ وقار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فپواسا متنبہ کرتی ہے کہ اگر حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ان جائز مطالبات کے حوالے سے اپنی بے حسی برقرار رکھی تو تعلیمی برادری کے پاس فیصلہ کن ردِعمل کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ فیڈریشن ان ناانصاف اور امتیازی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اگر مناسب مدت کے اندر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو فپواسا ملک بھر میں جامعات کی بندش کا اعلان کرے گی اور یونیورسٹی اساتذہ کے جائز حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلے گی۔ فپواسا بامقصد مکالمے اور تعمیری مشاورت پر یقین رکھتی ہے، تاہم اساتذہ کے حقوق، وقار اور پیشہ ورانہ فلاح و بہبود پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔







