قبضہ مافیا، جائیداد تنازعات: پنجاب بھر میں پراپرٹی ٹریبونلز قائم، ریٹائرڈ ججز ممبر مقرر

ملتان (سٹاف رپورٹر)بورڈ آف ریونیو پنجاب نے صوبہ بھر میں پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے تحت قائم کیے جانے والے پراپرٹی ٹریبونلز کیلئے ریٹائرڈ جوڈیشل افسران کی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے 20 دسمبر 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرریاں حکومت پنجاب کی منظوری اور لاہور ہائیکورٹ کی نامزدگیوں کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہیں۔ ان ٹریبونلز کا قیام آرڈیننس کے سیکشن 11 کے تحت کیا جا رہا ہے جن کا مقصد غیر منقولہ جائیداد کے مالکانہ حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع کے لیے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ٹریبونلز کا ممبر مقرر کیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، بہاولپور، ڈی جی خان، سرگودھا، اوکاڑہ، وہاڑی، شیخوپورہ، اٹک، جھنگ، مظفرگڑھ، راجن پور، لودھراں، پاکپتن، خانیوال، ننکانہ صاحب، ساہیوال، حافظ آباد، چکوال، لیہ، رحیم یار خان، جہلم، منڈی بہاالدین اور دیگر اضلاع شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ راولپنڈی اور مظفرگڑھ میں قائم پراپرٹی ٹریبونلز بالترتیب مری اور کوٹ ادو کے اضلاع میں بھی دائرہ اختیار استعمال کریں گےجب تک ان اضلاع کے لیے علیحدہ جوڈیشل افسران نامزد نہیں کیے جاتے۔اسی طرح گجرات، چکوال اور ڈیرہ غازی خان کے پراپرٹی ٹریبونلز بالترتیب وزیرآباد، تلہ گنگ اور تونسہ کے اضلاع میں بھی اپنے اختیارات استعمال کریں گے۔بورڈ آف ریونیو حکام کے مطابق ان ٹریبونلز کے قیام سے جائیداد سے متعلق تنازعات کے جلد اور شفاف فیصلوں میں مدد ملے گی، جبکہ قبضہ مافیا اور غیر قانونی لین دین کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی ممکن ہو سکے گی۔

پراپرٹی آرڈیننس معطل، قانون رہتا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی: لاہور ہائیکورٹ

لاہور(بیورورپورٹ)لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نےعبوری حکم کے ذریعے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کو معطل کر دیا جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد کے تنازعات کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے یہ حکم عابدہ پروین اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران جاری کیا جن میں آرڈیننس کے تحت جائیداد سے متعلق کیے گئے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔عبوری حکم کے ذریعے نئے قانون کے تحت جائیدادوں کا قبضہ چھیننے سے متعلق تمام فیصلے بھی معطل کر دیئے گئے۔قانون پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ کسی کو حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر یہ قانون برقرار رہا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرایا جا سکتا ہے، بظاہر کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو ایک ریونیو افسر کس طرح جائیداد کا قبضہ منتقل کر سکتا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نئے قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو ختم کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار حکام کے ہاتھ میں ہو تو وہ آئین کو بھی معطل کر دیں۔انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ اگر اس قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر کسی شخص کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دے تو متاثرہ فرد کو اپیل کا حق بھی حاصل نہیں، ان کے مطابق نئے قانون میں ہائیکورٹ کو بھی ایسے معاملات میں حکمِ امتناع دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔سماعت کے دوران پنجاب کے چیف سیکریٹری اور دیگر سرکاری افسران عدالت میں موجود تھے، تاہم پنجاب ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہوئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ علالت کے باعث حاضر نہیں ہو سکے۔اس پر چیف جسٹس عائشہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ وہ خود بھی بیمار ہیں اور انہیں بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا گیا ہے، اس کے باوجود وہ عدالت میں مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں۔بعد ازاں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ معاملے کی مزید سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دیا جائے گا اور سماعت ملتوی کر دی گئی۔واضح رہے کہ مذکورہ آرڈیننس کو 31 اکتوبر کو پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے منظور کیا تھاجس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات کو 90 دن میں نمٹانے کی شرط رکھی گئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں