ہم بجلی نہیں، قرض جلا رہے ہیں—اور اندھیرے میں بھی یہی چراغ جلتا رہتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ پاکستان کی معیشت کا وہ دائمی زخم بن چکا ہے جس پر ہر حکومت مرہم رکھنے کے بجائے صرف پٹی بدلتی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق حکومت ایک بار پھر ایشیائی ترقیاتی بینک سے مزید قرض لے کر گردشی قرضے کے بقیہ بڑے حصے کو چکانے اور مہنگی تجارتی مالیات کو سستے قرض سے بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بظاہر یہ قدم وقتی سانس مہیا کر سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اسی پرانی بیماری کا نیا نسخہ ہے، جس میں مرض کو نہیں بلکہ اس کی علامت کو علاج سمجھ لیا جاتا ہے۔
گردشی قرضہ محض حساب کتاب کا مسئلہ نہیں بلکہ بدانتظامی، سیاسی مصلحتوں اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔ بجلی پیدا کرنے، منتقل کرنے اور تقسیم کرنے کے پورے نظام میں نقصانات، چوری، ناقص وصولیاں، تاخیر سے دی جانے والی سبسڈیاں اور حقیقت سے کٹے ہوئے پیداواری معاہدے ایک ایسا دائرہ بناتے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر نقدی کو چاٹ رہا ہے۔ قرض کی نئی ری فنانسنگ اس بہاؤ کو نہیں روکتی، صرف وقتی طور پر دباؤ کو آگے منتقل کر دیتی ہے۔
خاص طور پر تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اس بحران کی جڑ ہے۔ کم وصولیاں اور زیادہ لائن لاسز برسوں سے معلوم ہیں، مگر سیاسی سرپرستی کے باعث احتساب ممکن نہیں ہو سکا۔ ایماندار صارفین مہنگے نرخ ادا کر کے چوری کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ نظام بدستور خسارے میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ بجلی گھروں کو مانگ سے قطع نظر دی جانے والی صلاحیتی ادائیگیاں گردشی قرضے کو ایک مستقل سرکاری ذمہ داری میں بدل چکی ہیں۔
مسئلہ تشخیص کا نہیں، عمل کا ہے۔ جب تک نرخوں کو حقیقت پسندانہ نہیں بنایا جاتا، سبسڈی کو واضح اور ہدفی شکل نہیں دی جاتی، چوری کے خلاف سخت نفاذ نہیں ہوتا اور مہنگے معاہدوں پر نظرثانی نہیں کی جاتی، تب تک ہر نیا قرض ایک نئی زنجیر ثابت ہوگا۔ سوال اب یہ ہے کہ کیا ریاست اس زنجیر کو توڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے، یا ہر بار اسے سونے کا رنگ دے کر آئندہ نسلوں کے گلے میں ڈالتی رہے گی۔







